BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکہ مسجد دھماکہ، جالنہ سے گرفتاری

مکہ مسجد
مکہ مسجد بم دھماکے اور بعد میں ہونے والی پولیس کارروائی کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک ہوئے تھے
حیدر آباد کی تاریخی مکہ مسجد میں اٹھارہ مئی کو ہونے والے بم دھماکے کی جاری تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے مہاراشٹر کے شہر جالنہ کے شعیب جاگیردار کو کچھ روز قبل حراست میں لیا ہے۔

پولیس کادعویٰ ہے کہ چالیس سالہ شعیب نے مکہ مسجد واقعہ میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد آر ڈی ایکس فراہم کیا تھا۔ پولیس کے مطابق شعیب کا اورنگ آباد سے آر ڈی ایکس ملنے کے واقعہ کے اہم ملزم نعیم شیخ سے بھی تعلق ہے۔

تاہم جالنہ میں شعیب کو جاننے والے پولیس کےان دعوؤں کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعیب اور نعیم محلے دار تھے اور دونوں کا بچپن ایک ساتھ گزرا۔ ’اس لیے ہو سکتا ہے کہ دونوں میں بات چیت رہی ہو‘۔

جالنہ میں شعیب کا ٹوٹا پھوٹا مکان بند تھا۔ ان کی بیوی کوثر اپنے بیٹے زوحیف کو اپنےسسر برہان الدین جاگیرادر کے پاس اورنگ آباد میں چھوڑ کر اپنے

شعیب کے خلاف اس سے قبل صرف موٹر سائیکل چوری کا ایک مقدمہ تھا
چھوٹے بیٹے حطیف کو ساتھ لے کر حیدر آباد گئی ہوئی تھیں، تاکہ اپنے شوہر کے قانونی حقوق کی تگ و دو کے لیے اپنے رشتہ داروں سے مدد حاصل کر سکیں۔

شعیب کے پڑوسیوں سے بات کی گئی تو انہوں نے ان کی (شعیب) گرفتاری پر اپنی حیرت کا اظہار کیا۔ تاہم کوئی بھی مزید کچھ کہنے سے گبھرا رہا تھا۔ ’کسی طرح کا کوئی تعلق بھی بتایا تو پتہ نہیں کب پولیس ہمیں بھی گرفتار کر لے‘۔

متعلقہ صدر پولیس سٹیشن کے انچارج انسپکٹر ایچ ایم مانکر نے بتایا کہ شعیب کے خلاف اس سے قبل صرف موٹر سائیکل چوری کا ایک مقدمہ تھا جو قدیم جالنہ پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا تھا۔

انسپکٹر مانکر کا کہنا تھا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق شعیب کا کبھی بھی کسی اسلامی تنظیم سے تعلق نہیں رہا اور نہ ہی وہ کسی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

جالنہ میں شعیب کا ٹوٹا پھوٹا مکان بند تھا

مانکر نے بتایا کہ چوبیس مئی کو حیدرآباد پولیس اور مہاراشٹر اے ٹی ایس (انسداد دہشت گردی سکواڈ) کا عملہ شعیب کوگرفتار کرنے آئے تھے جبکہ ان کے پولیس سٹیشن نے بس ان سے تعاون کیا تھا۔ ’ہمیں اس سے زیادہ اور کوئی خبر نہیں‘۔

جالنہ میں محمد سلیم جن کی مرغیاں بیچنے کی دکان ہے، جس کے مالک شعیب ہیں۔ سلیم انہیں ماہانہ آٹھ سو روپیہ کرایہ دیتے ہیں۔ سلیم کے مطابق شعیب مٹی کا تیل (کیروسین آئل) فروخت کرتے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ کوثر ایک غیر سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں، جہاں سے انہیں صرف تین سوروپیہ ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔

گجرات کا فرضی تصادم معاملہ اب فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔جعلی مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پرمذہبی رنگ
بی جے پی کامیاب؟
انڈیا میں سیکورٹی کے لیئے کیلیئے ہرقربانی جائز
انڈین پولیساسلام کی تعلیم
انڈیا میں خصوصی پولیس عملے کی تربیت
جیلحیدر آباد دھماکہ
دھماکے میں خود کش حملہ آور ہلاک ہو گیا
برقعہ پوش خاتونخواتین کا اجتماع
پچاس ہزار برقعہ پوش خواتین کی شرکت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد