BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 21:50 GMT 02:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: دہشتگردی کا سبب، مقامی مسائل

بے جی پی اور سنگھ پریوار نے پروپیگینڈے سے مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے
گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد یہ بات نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود یہاں القاعدہ یا اس جیسی کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا کوئی موید نہیں ہے اس کے باوجود اگر کہیں تشدد کے واقعات ہورہے ہیں تو اس کی وجہ محظ مقامی مسائل ہيں۔

مثلا مسجد کی شہادت، گجرات اور دوسرے فسادات، سنگھ پریوار کی مسلسل شرائط۔ اس کے علاوہ مسلمانوں اور ان کی مدرسوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں-

آسٹریلیا، فرانس اور امریکہ وغیرہ سے اعلی سطحی سرکاری وفود ہندوستان آ رہے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ کوئی خوبی ہے تو اسے عام کیا جائے اور دہشت گردی کی جنگ میں اس سٹڈی کو استمعال میں لا جاۓ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک مختصر ترین حلقہ ہی دہشت گردی کی تائید کرسکتا ہے ۔ ہماری غالب ترین اکثریت دہشت گردی اور خون خرابے سے نفرت کرتی ہے۔ یہ بات ہمارے خون میں دوڑتی ہے۔اسلام یہ بتاتا ہے کہ ایک بے قصور کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔

ہمارے لۓ 'ہنسا' ایک غیر معمولی عمل ہے جو صرف غیر معمولی حالات میں شاذو نادر ہی ہم سے سرزد ہوتا ہے۔

ملک کے اندر اور ملک کے باہر مختلف طاقتیں اپنے اپنے ایجینڈوں کو بروے کار لانے کے لۓ مسلمانوں کو بدنام کررہی ہیں اور انہیں اکسا رہی ہیں۔ لیکن ہر جگہ مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی اس سازش کو نا کام بنایا ہے۔ البتہ جہاں جہاں غیر ملکی طاقتوں نے قبضہ جمایا ہے وہاں تحریک مزاحمت، بین الاقوامی قانون اور حقوق انسانی کے تحت لڑائی لڑي جارہی ہے ۔

ہندوستان کے اندر سنگھ پریوار اور بالخصوص بی جے پی نے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے داخلی ایجینڈوں کے لۓ استمعال کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور مسلسل پروپیگینڈا کے ذریعے مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

پولیس اور سرکاری محکموں کو فرقہ پرستی کے زہر سےگھول دیا گیا ہے اور سیکورٹی کو ایک مقدس گاۓ بنا دیا گیا جسکے کے لۓ ہر قربانی جائز ہے۔

اس ماحول کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کو بلا تحقیق اور بلا جھجھک مسلم فرقےکے سر پر منڈھ دیا جاتا ہے جبکہ ملک کے اندر بہت ایسی جماعتیں ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر اور مختلف مقاصد کے لۓ دہشت گردی کا سہارا لیتی ہیں۔

خود سنگھ پر دہشت گردی کے سنگین الزامات عائد ہیں کہ وہ اقلیتیوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف مسلسل دہشت گردی میں ملوث ہے۔

ملک کے اندر دہشت گردی کو مسلمانوں سے مخصوص کرنا درست نہیں ہے بلکہ دوسری بہت سی طاقتیں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لۓ دہشت گردی کا سہارا لیتی ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی مسلمانوں کی جانب سے کوئی منظم دہشت گردی نہیں ہورہی ہے۔ محض اکا دکا واقعات کی بنیاد پر پوری 'کمیونٹی' پر الزام نہیں ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ میں جن مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ان کی اکثریت پر الزامات ثابت نہیں کۓ جا سکے۔ اور بعد میں انہیں دوسرے ملکوں کو بھیج دیا گیا۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں اور محض شبہ کی بنیاد پر ان کو حراست میں رکھا جا رہا ہے۔

مغربی ممالک کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ مڈل ایسٹ، شمالی افریقہ، خلیج اور پاکستان وغیرہ سے جو دہشت گردی وہاں ’آ رہی ہے‘ اس کا کیا کیا جاۓ؟

کیونکہ ان ممالک میں امریکہ کی موید حکومتیں قائم ہیں جنہیں پوری طرح سے امریکی تعاون حاصل ہے۔ اگر امریکہ اپنی حمایت واپس لے لے تو حکومتیں گر جائیں گی۔

اس لحاظ سے ان ملکوں میں امریکہ کا جمہوریت کی بحالی کا نعرہ ناکام ثابت ہوا ہے کیونکہ عوام کو جیسے ہی موقع ملتا ہے تو حماس جیسی اسلام پسند تحریکیں جمہوری طریقے سے اقتدار میں آجاتی ہیں۔ لیکن جن ملکوں میں عوام کو یہ موقع نہیں ملتا ہے وہاں اس کی وجہ سے دوسرے مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور دہشت گردی جنم لیتی ہے ۔

دراصل امریکا اپنے فائدے کی ڈیموکریسی چاہتا ہے۔ جہاں بھی اسکی پسند کی جمہوریت نہیں ہوتی ہے وہ اسے ختم کردینا چاہتا ہے جیسے الجزائر میں جمہوری طریقے سے کامیاب ہوئی اسلامی تحریک کو ختم کر دیا گیا اور اب فلسطین میں یہی عمل جاری ہے۔

امریکہ اپنی اسلام اور مسلم دشمن پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہتا ۔ اسلام اور دہشت گردی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اسلام ایک آفاقی دین ہے جس میں دہشت گردی اور لا قانونیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دہشت گردی کو دراصل امریکہ اور مغربی ممالک نے اپنے جدید مقاصد کے لۓ بڑھاوا دیا ہے ۔ جیسےہی مغربی ممالک اپنی ان پالیسیوں میں تبدیلیاں کریگیں وہ دیکھیں گے کہ ساری دنیا کے مسلمان انکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ ہماری مغرب اور مغربی لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ مغرب کی جدید سامراجی پالیسیاں جن کے خلاف ہندوستان اور دنیا کے مسلمان احتجاج کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد