حیدرآباد میں ہڑتال، کشیدگی برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں جمعہ کو مکّہ مسجد میں بم دھماکے کے بعد سے حالات کشیدہ مگر فی الحال قابو میں بتائے جا رہے ہیں۔ شہر کے بیشتر حصوں میں ’ریپڈ ایکشن فورس‘ کے دستے تعینات ہیں اور حالات بالکل کرفیو جیسے ہیں۔ اس واقعے میں مرنے والوں کی تعددا سولہ ہوگئی ہے۔ مسلم تنظیموں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے جس کی وجہ سے تمام بازار بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس نے اب یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ پانچ افراد اس کی گولی سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ہسپتال سے چار لاشیں ایسی ملی ہیں جن کے سینے پر گولیاں لگی ہیں۔ اس واقع میں تقریباً چالیس افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو کی حالات نازک بتائی جارہی ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ جمعہ کو سترہویں صدی میں تعمیر کی جانے والی مکہ مسجد میں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد دس ہو گئی
خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ سال انڈیا میں دو مختلف مساجد میں بم دھماکے ہوئے تھے، ایک دھماکہ ملک کے مغربی حصے میں مالیگاؤں کی ایک مسجد میں ہوا جس میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دوسرا دلی کی جامع مسجد میں ہوا تھا۔ تفتیشی اداروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں کالعدم تنظیم سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ (سیمی) اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گروہ ملوث ہو سکتے ہیں۔ سنیچر کی صبح مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے مکہ مسجد کا دورہ کیا جہاں لوگوں نے ان کا محاصرہ کر لیا اور انہیں گھیرے میں لے کر حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا:’ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مذہبی مقامات پر حملے ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے کیے جارہے ہیں لیکن ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘ وزیراعلیٰ راج شیکھر ریڈی نے کہا ہے کہ بم دھماکوں کے ذمہ داروں کا اگلے چوبیس گھنٹوں میں پتہ لگایا جائےگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پولیس فائرنگ کی تفتیش سی بی آئی سے کروائی جائےگی۔ خبررساں ادارے اے ایف پی نے ریاست کے پولیس چیف ایم اے باسط کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں مہارت سے بنا ہوا گرینیڈ ٹائپ پائپ بم استعمال کیا گیا۔ بہت امکان ہے کہ اسے شہر سے باہر کہیں سے لایا گیا تھا۔ ’ہمارا اندازہ ہے کہ مساجد میں ہونے والے پچھلے دھماکوں کی طرح اس مرتبہ بھی دھماکے موبائل فون کی مدد سے کیے گئے ہیں‘۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں استعمال ہونے والے بموں کو ایک نوکیا موبائل فون کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ فون کے سِم کارڈ کی مدد سے اس کے مالک کو ڈھونڈنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے پولیس فائرنگ کے معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ روز دھماکے کے بعد بھاگتے ہوئے لوگوں پر پولیس نے جس طرح فائرنگ کی جِس سے اب حیدرآباد پولیس پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا ہے۔ مسٹر اویسی نے ان خبروں پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے جس میں بم دھماکوں کا الزام مسلم تنظیم سیمی اور جیش محمد پر عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ مالیگاؤں کے طرز پر سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیموں کی طرف سے ہوا ہے جس کی تحقیق سی بی آئی کو کرنی چاہیے۔ بقول ان کے پولیس اپنا کام آسان کرنے کے لیے بڑی آسانی سے مسلم تنظيموں کا نام لے لیتی ہے لیکن گزشتہ روز کے واقعات بتاتے ہیں کہ پولیس مسلمانوں کے حوالے سے کس قدر جانب دار ہے۔
حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق کا کہنا ہے کہ پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کے سبب لوگوں میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔ مسجد میں دھماکے کے بعد لوگ احتجاج کر رہے تھے جن پر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ خبر رساں ادارے اے پی نے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد دس جبکہ زخمیوں کی تعداد پینتیس بتائی ہے جبکہ پولیس فائرنگ سے چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ شہر بھر جابجا سوگ کے طور پر سیاہ جھنڈے لگائے گئے ہیں۔ مرنے والے چودہ افراد میں سے تیرہ کی لاشیں ان کے ورثاء عثمانیہ ہسپتال سے لے جا چکے ہیں۔ اے پی کے مطابق آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ راج شیکھر ریڈی نے بم دھماکوں کو امن اور سکون تباہ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ اے پی کا کہنا ہے کہ کسی گروہ نے تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ |
اسی بارے میں مسجد میں دھماکہ، چودہ افراد ہلاک18 May, 2007 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے:37 ہلاک، سو زخمی08 September, 2006 | انڈیا دلی: جامع مسجد میں دھماکے14 April, 2006 | انڈیا ممبئی میں دھماکے، 175 ہلاک11 July, 2006 | انڈیا سرینگر: 5 دھماکے 17 افراد زخمی22 May, 2006 | انڈیا ’مسجد کی خستہ حالی پر احتجاج‘26 April, 2007 | انڈیا سرینگر دھماکہ: 25 پولیس اہکار زخمی23 May, 2006 | انڈیا بھگدڑ اور ٹرین دھماکہ، 27 ہلاک28 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||