مالیگاؤں دھماکے:37 ہلاک، سو زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر میں پاور لوم صنعت کے لئے مشہور شہر مالیگاؤں میں جمعہ کی دوپہر دو بم دھماکے ہوئے جن میں اب تک سینتیس افراد کے ہلاک اور سو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جمعہ کے روز شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا اور حالات کشیدہ بتائے جاتے تھے لیکن سنیچر کے روز کرفیو اٹھا لیا گیا۔ مقامی صحافیوں نے بی بی سی ہندی سروس کو مہاراشٹر کے ڈپٹی وزیرِ اعلیٰ آر آر پاٹل کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد سینتیس ہے۔ اس سے قبل مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پی ایس پسریچا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اب تک کم سے کم پچیس افراد ان دھماکوں میں ہلاک ہو چکے ہیں ۔ تاہم مقامی رکنِ اسمبلی رشید شیخ کا کہنا تھا کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے سرکاری واڈیا ہسپتال میں پینتیس لاشیں دیکھ کر آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پولس پہلے لاشوں کا پنچ نامہ کرتی ہے اسی کے بعد اسے مردہ میں شمار کیا جاتا ہے اور ابھی لاشوں کا پنچ نامہ جاری ہے۔ رشید شیخ کے مطابق مالیگاؤں میں تین بم دھماکے ہوئے ۔دو دھماکے بڑا قبرستان میں ہی یکے بعد دیگرے ہوئے جب کہ تیسرا دھماکہ قبرستان کے عقب میں مشاورت چوک کے پاس ہوا۔ رشید خان کے مطابق نورانی مسجد سے لوگ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد نکلے ہی تھے کہ تقریبا پونے دو بجے کے قریب بڑا قبرستان اور مشاورت چوک کے پاس تین بم دھماکے ہوئے ان دھماکوں کی وجہ سے افراتفری مچ گئی۔ رشید شیخ کا کہنا ہے کہ جمعہ ہونے کے ساتھ آج شب برات بھی ہے اس لئے یہاں نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ہر سال شب برات کے موقع پر یہاں کم سے کم بیس ہزار سے زائد لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں۔ خان کے مطابق یہاں قبرستان کے قریب دور دور سے فقیروں کی ٹولیاں بھی آتی ہیں اور مرنے والوں میں نمازیوں کے ساتھ فقیر بھی شامل ہیں۔ ایس پی پسریچا نے کہا کہ مہاراشٹر میں گزشتہ کئی مہینوں سے حالات کافی کشیدہ ہیں اور کسی بھی طرح کے فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کے لئے انہوں نے پورے شہر میں کرفیو کا اعلان کر دیا ہے۔ مقامی ڈاکٹر ستار شاہ نے بی بی سی کو بتایا حالانکہ ان کا گھر دھماکے کی جگہ سے خاصی دور ہے اس کے باوجود انہیں زور دار دھماکے کی آواز آئی اور وہ سب دہل گئے۔ رشید خان کے مطابق زخمیوں کو شہر کے فاران ہسپتال ، علی اکبر ڈے کئیر اور سرکاری ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے ۔خان کا کہنا ہے کہ یہاں حالات کافی کشیدہ ہیں۔ اس سے پہلے بھی مالیگاؤں میں فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں اور ان کے مطابق انتظامیہ کے ساتھ مقامی افراد کی بھی کوشش ہے کہ اس طرح کے حالات یہاں اب رونما نہ ہوں۔ مالیگاؤں ممبئی سے ایک سو اسی کلومیٹر دور ہے۔ یاد رہے کہ گیارہ جولائی کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے جن میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار31 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید دو افراد گرفتار 25 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا سرینگر: پانچ دھماکے،آٹھ ہلاک11 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||