BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسجد کی خستہ حالی پر احتجاج‘

سرینگر کے قریب واقع قلعہ
قلعہ کی مسجد بہت بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکی ہے:ماہرین
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں واقع سولہویں صدی کے قلعے کے اندر موجود ایک مسجد کی تباہ حالی پر کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

علیحدگی پسند تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس کے سخت گير دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گيلانی نے اس حوالے سے جمعہ کی نماز کے بعد پوری وادی میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے ۔

حریت کانفرنس نے عوام کی رضاکارانہ مدد سے سے مسجد کی از سرنو تعمیر کی پیش کش بھی کی ہے۔

یہ قلعہ سری نگر شہر کے قلب میں کوہِ ماراں نامی پہاڑی پر واقع ہے اور اسے مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا۔ آثارِ قدیمہ کے محکمے کے ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسجد بہت بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکی ہے ۔

مقامی باشندوں میں ناراضگی اس لیے زیادہ ہے کہ یہ تاریخی قلعہ گزشتہ سترہ برسوں سے نیم فوجی دستوں کے قبضے میں رہا ہے ۔ اسے ایک ہفتے قبل عالمی یوم وراثت کے موقعہ پر عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن جب مسجد کی بوسیدہ حالی عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچنے لگي تو قلعہ ایک بار پھر بند کر دیا گیا ۔

محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر خورشید قادری نے بی بی سی کو بتایا ’ قلعے کو اس کی پرانی حالت ميں بحال کیا جائےگا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسجد بھی ازسرنو تعمیر کی جائے گي‘۔

انہوں نے بتایا کہ قلعے کی بحالی اور مرمت گزشتہ ایک برس سے جاری ہے’ہم لوگوں نے اوپری منزل سے کام کا آغاز کیا ہے جبکہ مسجد نچلی منزل پر ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد