’مسجد کی خستہ حالی پر احتجاج‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں واقع سولہویں صدی کے قلعے کے اندر موجود ایک مسجد کی تباہ حالی پر کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ علیحدگی پسند تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس کے سخت گير دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گيلانی نے اس حوالے سے جمعہ کی نماز کے بعد پوری وادی میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے ۔ حریت کانفرنس نے عوام کی رضاکارانہ مدد سے سے مسجد کی از سرنو تعمیر کی پیش کش بھی کی ہے۔ یہ قلعہ سری نگر شہر کے قلب میں کوہِ ماراں نامی پہاڑی پر واقع ہے اور اسے مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا۔ آثارِ قدیمہ کے محکمے کے ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسجد بہت بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکی ہے ۔ مقامی باشندوں میں ناراضگی اس لیے زیادہ ہے کہ یہ تاریخی قلعہ گزشتہ سترہ برسوں سے نیم فوجی دستوں کے قبضے میں رہا ہے ۔ اسے ایک ہفتے قبل عالمی یوم وراثت کے موقعہ پر عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن جب مسجد کی بوسیدہ حالی عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچنے لگي تو قلعہ ایک بار پھر بند کر دیا گیا ۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر خورشید قادری نے بی بی سی کو بتایا ’ قلعے کو اس کی پرانی حالت ميں بحال کیا جائےگا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسجد بھی ازسرنو تعمیر کی جائے گي‘۔ انہوں نے بتایا کہ قلعے کی بحالی اور مرمت گزشتہ ایک برس سے جاری ہے’ہم لوگوں نے اوپری منزل سے کام کا آغاز کیا ہے جبکہ مسجد نچلی منزل پر ہے‘۔ | اسی بارے میں سری نگر قلعے سے فوجی انخلاء 24 April, 2007 | انڈیا کشمیر:حریت کے چھ رہنماگرفتار 26 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||