سرینگر: 5 دھماکے 17 افراد زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں کم از کم پانچ مقامات پر عسکریت پسندوں نے دستی بموں سے حملے کئے ہیں۔ ان حملوں میں کئی بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں نصف سکیورٹی اہلکار ہیں۔ عسکریت پسندوں نے مولانا آزاد روڈ پر واقع نائب وزیراعلی کی رہائش گاہ کے باہر سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر رائفل گرینیڈ سے حملہ کیا۔ اس واقعہ میں دو سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ پانچ شہری بھی زخمی ہوئے ہیں جس میں ایک آٹھ سال کی بچی بھی شامل ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب 24 مئی سے کشمیر کے سوال پر سرینگر میں ایک گول میز کانفرنس ہو رہی ہے۔ جس کی صدارت وزیراعظم منموہن سنگھ کريں گے۔ عسکری تنظیموں نے اس کانفرنس کی مخالفت کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ اسے سیبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان حملوں کے باوجود بقول ان کے ’امن کا عمل جاری رہے گا اور راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اپنے مقررہ وقت پر ہو گی‘۔ اس دوران سی آر پی ایف کے آئی جی آپریشن ہری چند سہائے سرینگر پہنچ چکے ہیں انہوں نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے مقام شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے سی آر پی ایف ہیڈ کواٹر کے دفتر سمیت سکیورٹی کی تمام شاخوں کے اعلی اہلکاروں کے ساتھ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ وزارت داخلہ میں اندرونی سلامتی کے انچارج جے ایس راج گوپالن اور وزیراعظم کے خصوصی محافظوں کے اہلکار یہاں صورتحال کا جائزہ لے رہے ہيں۔ اتوار کو کانگریس کی ریلی پر حملے اور پیر کے دھماکوں کے بعد حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ اس دوران کل کے حملے میں زخمی ہونے والے سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل کی جگہ نئے آئی جی کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ شہر میں متعدد دھماکوں کے باوجود روز مرّہ کی زندگی معمول پر ہے۔ | اسی بارے میں ’امن کوششوں پر اثر نہیں پڑے گا‘21 May, 2006 | انڈیا شدت پسند، ملزم یا ضمیر کے قیدی22 May, 2006 | انڈیا سرینگر: مرنے والوں کی تعداد نو22 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||