سرینگر: مرنے والوں کی تعداد نو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کانگریس کی ایک ریلی پر عسکریت پسندوں کے حملے میں مرنے والوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے۔ اس حملے میں پچیس افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ سرینگر سے بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ اتوار کے حملے کا ایک مضروب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ زخمیوں میں انسپکٹر جنرل پولیس بھی شامل ہیں۔ نامہ نگار شکیل کا کہنا ہے کہ دلی سے زخمیوں کے علاج کے لیئے ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم سرینگر پہنچ گئی ہے۔ دریں اثناء انڈیا کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ پیر کو کسی وقت سرینگر پہنچ رہے ہیں۔ گزشتہ روز پولیس نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خود کش حملہ آور بھی شامل ہیں۔ دیگر ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور چار شہری جبکہ زخمی ہونے والوں میں بھی سات پولیس اہلکار شامل ہیں۔ زخمی پولیس اہلکاروں میں آئی جی اور ڈی ایس پی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق مقامی پولیس چوکی کے ایک ایس ایچ او بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ سرینگر کے شیر کشمیر پارک میں کانگریس کی ریلی سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی پندرہویں برسی کے سلسلہ میں منققد کی گئی تھی۔ اس ریلی میں ایک بڑي تعداد میں لوگ موجود تھے اور چھ منٹ بعد وزيراعلی غلام نبی آزاد وہاں پہنچنے والے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق ریلی میں سے ایک شخص نے اٹھ کر جلسے کے سٹیج پر فائرنگ شروع کردی جس کے جواب میں پولیس نے بھی گولیاں چلائیں۔ وہاں موجود رائٹرز کے ایک فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ اس نے کچھ پولیس والوں کے جسم سے خون بہتے ہوئے دیکھا۔ کانگریس کے ایک کارکن نے بتایا کہ اس نے کم از کم ایک درجن افراد کو دیکھا جن کو گولیاں لگی تھیں جبکہ ایک قریبی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ ان کے ہاں دس زخمیوں کو لایا جا چکا ہے۔ حملے کے بعد پورے علاقے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ فوج نے پورے علاقے کو سیل کر دیا ہے۔ دو شدت پسند تنظیموں لشکر طیبہ اور المنصورین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||