سرینگر: عینی شاہدوں کا بیان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر کے شیر کشمیر پارک میں راجیو گاندھی کی برسی پر ہونے والی خوں ریزی کے چشم دید شاہدوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ’میں نے پولیس کی وردی میں ملبوس ایک نوجوان کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ میری آنکھوں کے سامنے چار لاشیں پڑی ہوئی تھیں‘۔ اس شاہد کا کہنا تھا کہ حملہ نماز ظہر کی اذان کے وقت ہوا۔ عینی شاہد کے مطابق ’ہم جنوبی کشمیر کے علاقے اننت ناگ سے راجیو گاندھی کی برسی کے موقع پر یہاں آئے تھے لیکن یہاں کہرام مچ گیا‘۔ اتوار کو ہندوستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کانگریس کی ایک ریلی پر عسکریت پسندوں کے حملے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ پچیس زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو خود کش حملہ آور بھی شامل ہیں۔ دیگر ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور چار شہری جبکہ زخمی ہونے والوں میں بھی سات پولیس اہلکار شامل ہیں۔
نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایس آر اجوہو نے حملے کے حوالے سے بتایا کہ ’سکیورٹی پر تعینات اہلکار کچھ دیر کے لئے پریشان ہو گئے کہ پولیس اہلکار کیوں کر ریلی پر فائرنگ کر رہے ہیں‘۔ مسٹر اجوہو کے مطابق حملہ آور عسکریت پسند پولیس کی وردی میں تھے اور انہوں نےاچانک سٹیج کی طرف بندوقیں تان کر گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ مسٹر اجوھو نے مزید بتایا کہ ’جب سکیورٹی فورسز کو اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ وردی پہن کر فائرنگ کرنے والی شدت پسند ہی ہیں تو انہوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ شروع کر دی اور انہیں مار گرایا‘۔ اجوھو کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ہندوستان کے سابق وزير اعظم راجیو گاندھی کی 15ویں برسی کے موقع پر آنے والے لوگوں کی حفاظت کے مدنظر ’جوابی کارروائی کافی احتیاط سے کی گئی ورنہ بہت جانیں چلی جاتیں‘۔ اتوار کو ہونے والا یہ حملہ گول میز کانفرنس کے سلسلے میں کیے گئے سخت ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود ہوا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری لشکر طیبہ اور المنصورین نے قبول کی ہے۔ حملے میں ریاست پولیس کے کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل کے راجندر کمار، دو ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ اور مقامی کوٹھی باغ تھانے کے سٹیشن ہاؤس آفیسر کے علاوہ دیگر افراد زخمی ہوئے ہيں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
ریاستی یوتھ کانگریس نے سرینگر کے مرکز میں واقع شیر کشمیر پارک میں ریلی کا اہتمام کیا تھا اور اس میں ریاست کے وزير اعلیٰ غلام نبی آزاد کے علاوہ پردیش کانگرس کے ریاستی صدر پیر زادہ محمد سعید بھی شرکت کرنے والے تھے لیکن ان کے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی یہ واقعہ پیش آ گيا۔ سرینگر میں 24 اور 25 مئی کو ہونے والی گول میز کانفرنس کے حوالے سے چار عسکریت پسند تنظیموں الناصرین، فرزندان ملت، سیو کشمیر موومنٹ اور القارفین نے مقامی اخبارات کے نام اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ’ان کے عسکریت پسندگول میز کانفرنس کو ’سیبو تاژ‘ کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ ان بیانات میں انہوں نے انہوں نے علحیدگی پسند لیڈرشپ کو بھی کانفرنس سے دور رہنے کے لیے کہا ہے۔ وزیراعلی غلام نبی آزاد، حکمراں اتحاد میں شامل پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور سابق وزيراعلی مفتی محمد سعید اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریلی پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ | اسی بارے میں کانگریس ریلی پرحملے انڈیا سرینگر: حملے میں آٹھ افراد ہلاک21 May, 2006 | انڈیا کشمیر کی آزادی کا میرا خواب20 May, 2006 | انڈیا کانفرنس میں شرکت سے انکار20 May, 2006 | انڈیا مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے21 May, 2006 | انڈیا کشمیر – ایک عالمی قانونی تنازع21 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||