BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد میں دھماکہ، چودہ افراد ہلاک
دھماکے کے بعد کا منظر
اس دھماکے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں
حیدرآباد دکن میں پرانے شہر میں واقع تاریخی مکہ مسجد میں ایک بم دھماکے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور پینتیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

دھماکہ مسجد کے اندر وضو خانے میں اس وقت ہوا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کرکے واپس جانے والے تھے۔اس واقعے کے بعد لوگوں نے پتھراؤ کیا ہے اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی ہے۔


حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں اور اشک آور گیس کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج بھی کیا۔ فی الوقت پولیس نے پورے علاقے کو اپنے محاصرے میں کر رکھا ہے اور کسی ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کے لیے ’ریپیڈ ایکشن فورسز‘ کو تعینات کیا گیا ہے۔

بم دھماکے کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اس دوران حکومت نے ریاست مہاراشٹر اور اترپردیش سمیت کئي شہروں میں چوکسی برتنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر بم کی نوعیت کا جائزہ لینے کے لیے فورنسک ماہرین کی ایک ٹیم حیدراباد روانہ ہوگئی ہے۔

مکہ مسجد
دھماکہ مسجد کے اندر وضو خانے میں اس وقت ہوا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کرکے واپس جانے والے تھے
وزیرداخلہ شیو راج پاٹل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسجد میں رکھے گئے بم دیسی نوعیت کے تھے۔’ یہ کس نے کیا اور کیسے ہوا اس کی تفتیش جاری ہے۔ فی الوقت متاثرین کی مدد پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور زخمیوں کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔‘

علاقے کے ایک سینیئر پولیس افسر ایم باسط نے بتایا ہے کہ بم ایک پا‎ئپ میں رکھا تھا۔ان کے مطابق یہ بم حساس نوعیت کا تھا جسے غالباً موبائل فون سے چلایا گياہے۔

مکہ مسجد تاریخی چار مینار کے نزدیک واقع ہے اور یہ پورا علاقہ بہت مصروف علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق کا کہنا ہے کہ دھماکے کے آس پاس خون کے دھبے ہیں اور کپڑوں کے چیتھڑے اور چپل جوتے پڑے نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے مسجد کے ارد گرد لوگوں کی اب بھی ایک بڑی تعداد جمع ہے اور حالات کشیدہ ہیں۔

حیدرآباد
دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم نے پتھراؤ کیا اورحکومت کےخلاف نعرہ بازی کی
دھماکے کے وقت آندھر پردیش کے وزیراعلی وائی ایس راج شیکھر ریڈی دلی میں تھے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ریاست کا امن وامان خراب کرنے کے لیے یہ دھماکہ کیا گيا ہے۔’میں سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں صبر وتحمل سے کام لیں اور اور امن کے قیام کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔‘

ایک سوال کے جواب میں راج شیکھر ریڈی نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔’ تفتیش کے بعد ہی پتہ چلےگا کہ اس کا مقصد کیا تھا اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ مسجد میں دو مزید بم تھے جنہیں پھٹنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا ہے ورنہ حالات اس سے اس سے کہیں زیادہ برے ہو سکتے تھے۔‘

وزیر اعلی نے ہلاک ہونے والے ہر فرد کے ورثاء کو پانچ پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے اور ہر زخمی کو بیس ہزار روپے دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد