حیدر آباد دھماکہ: ملزمان کا ریمانڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے جنوبی شہر حیدر آباد میں ایک عدالت نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے دھماکے کے دو ملزمان کو جیل حکام کی تحویل میں دے دیا ہے۔ پولیس نے ان دونوں ملزمان کو بم دھماکوں میں ملوث ہونے اور پاکستان اور بنگلہ دیش کی دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کے نام محمد کلیم اور محمد زاہد ہیں جنہیں عدالت نے دو ہفتے کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔ انہیں حراست کے اگلے روز سخت حفاظتی اقدامات میں عدالت میں لایا گیا۔ یہ گرفتاریاں گزشتہ برس بارہ اکتوبر کو پولیس ٹاسک فورس کے دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں کی گئی ہیں۔ پولیس کے خیال میں اس دھماکے میں خود کش حملہ آور ہلاک ہو گیا تھا جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا اور عمارت کا ایک حصہ بھی تباہ ہو گیا تھا۔ حیدر آباد کے پولیس کمشنر اے کے موہانٹی نے بتایا کہ متعصم باللہ نامی خود کش حملہ آور بنگلہ دیشی شہری تھا جس نے مقامی اہلکاروں کلیم اور زاہد کی مدد سے یہ دھماکہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس زاہد کے والد محمد واجد اور بھائی ماجد سے زاہد کی مصروفیات کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اس سے قبل زاہد نے پولیس کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ پولیس نے وہ جگہ تلاش کر لی ہے جہاں مبینہ بنگلہ دیشی حملہ آور اور محمد کلیم نے دھماکے میں استعمال ہونے والا بم تیار کیا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے وہ ہوٹل بھی تلاش کر لیا ہے جس میں متعصم نے دھماکے سے ایک روز قبل قیام کیا تھا۔ کمشنر موہانٹی کا کہنا ہے کہ کلیم نے دہشت گری کی اس کارروائی میں شامل ہونے کا اعتراف کیا ہے اور اس کے قبضے سے ایک عدد بندوق اور کارتوس بھی برآمد ہوئے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی معلومات پر پولیس نے ایک اور مقامی نوجوان محمد زاہد کو گرفتار کیا۔ ان کے مطابق مرنے والے خود کش حملہ آور کا نام بھی کلیم نے ہی بتایا تھا اور یہ ساری کارروائی جیش محمد اور لشکر طیبہ نے حرکت الجہاد الاسلامی کے ساتھ مل کر کی تھی۔ دھماکے میں مرنے والے حملہ آور کا سر بری طرح مسخ ہو گیا تھا اور اس کے بنگالی ہونے کی تصدیق چہرے سے کی گئی تھی۔ کمشنر موہانٹی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کی یہ کارروایاں آئی ایس آئی کروا رہی ہے اور ان کا ارادہ بھارت کے بہت سے شہروں میں دھماکے کرنے کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے کی تفتیش کے دوران بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے کئی شواہد ملے ہیں۔ پولیس کے مطابق کلیم نے بتایا ہے کہ انہیں غلام یزدانی نامی شخص نے بھرتی کیا تھا اور اسے تربیت کے لیے بنگلہ دیش بھی بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یزدانی اور شاہد نامی ایک شخص نے خود کش حملہ آورکو حیدر آباد بھیجا تھا۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکوں کی وڈیو29 October, 2005 | انڈیا ابو سالم کون ہے11 November, 2005 | انڈیا مشتبہ بمبار کا خاکہ جاری02 November, 2005 | انڈیا قصوری کی نٹور سنگھ سے بات چیت02 November, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||