دِلی میں خوف لوٹ آیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بم دھماکوں کے بعد ایک کروڑ چالیس لاکھ کی آبادی والے شہر دِلّی میں بے یقینی کی کیفیت طاری ہے۔ دِلی کے مختلف حصوں میں حالیہ سالوں میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ خودکار اسلحہ سے لیس پولیس اہلکار مختلف ناکوں اور اہم مقامات پر تعینات ہیں۔ بہت سے اہلکار سرکاری عمارات اور میٹرو ریلوے سٹیشن کے باہر دیکھے جا سکتے ہیں۔ شہر کے ایک بڑے ہسپتال آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے باہر سخت پہرا ہے۔ بم دھماکوں کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد کویہیں لایا گیا تھا جن میں سے کچھ سکتے کی حالت میں تھے، کچھ کا خون بہہ رہ رہا تھا اور کچھ رو رہے تھے۔ ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ’کچھ زخم خوفناک تھے‘۔ ’ہم نے سب چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ ہمیں اس وقت ہر طبی اہلکار کی ضرورت ہے‘۔ دِلّی میں ایک دھماکہ شہر کے وسط میں مصروف علاقے پہاڑ گنج میں ہوا۔ پہاڑ گنج ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ مغربی سیاحوں میں بھی بہت مقبول ہے۔ اس سنیچر دیوالی اور عید کے تہواروں کی وجہ سے بازار میں خاص طور پر زیادہ رش تھا۔ اس علاقے میں ایک سائبر کیفے چلانے والے پیوش سولنکی نے کہا ’مجھے لگا کہ شاید پٹاخہ چھوڑا گیا ہے‘۔’ اس کے کچھ ہی دیر بعد میری دکان کی کھڑکیاں ہلنے لگیں اور میں دوڑ کر باہر آ گیا جہاں ہر طرف دھواں دھواں ہی تھا‘۔ سولنکی نے بتایا کہ ’دھواں چھٹنے پر میں نے زمین پر ایک لڑکی کی لاش دیکھی جس کے کپڑے دھماکے سے پھٹ چکے تھے‘۔ جیسے مزید دھماکوں کی خبریں آئیں بازار میں افراتفری پھیل گئی۔ دکانیں بند ہو گئیں اور منٹوں میں بازار خالی ہو گیا۔ دِلی میں کئی برسوں سے اس پیمانے کے حملے نہیں ہوئے تھے اور انتظامیہ واضح طور پر ان سے متاثر ہوئی تھی۔ باہر جیسے رات نے قدم جمائے شہر میں عدم تحفظ کا احساس طاری تھا جس کو لوگ ایک عرصے سے بھول چکے تھے۔ دِلی کے ایک رہائشی بھارتی سنگھ نے سکھوں کی عسکریت پسند تحریک کا دور یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’انیس سو اسی کی دہائی میں بھی ایسا ہی تھا‘۔ ’ہمارا خیال تھا کہ ہم وہ سب پیچھے چھوڑ آئےہیں‘۔ | اسی بارے میں ’یہ بزدلانہ دہشتگردی ہے‘29 October, 2005 | انڈیا دھماکوں کے بعد سخت حفاظتی انتظامات30 October, 2005 | انڈیا دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا30 October, 2005 | انڈیا دلی دھماکوں کی وڈیو29 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||