حیدرآباد دھماکے، تحقیقات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدر آباد میں سنیچر کو ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنیسی ’را‘ کے علاوہ کئی ديگر خفیہ ایجنسیز بھی اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ راج شیکھر ریڈی نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 بتاتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ابھی تک ملنے والے ثبوتوں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے بنگلہ دیش یا پاکستان کی شدت پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ اس سے قبل ریاست کے وزیرِ داخلہ جنا ریڈی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد بیالیس بتائی تھی۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ملوث ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے نامہ نگار عمر فاروق نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے دو افراد کی شناخت کا عمل اس لیے مشکل ہو رہا ہے کیونکہ ان کے جسم کے بعض اعضاء جیسے سر اور چہرہ دھماکوں کی نذر ہوگئے ہیں۔ تاہم امید کی جارہی ہے کہ فورنسک جانچ ہونے کے بعد ان کی شناخت ہو جائے گی۔ دھماکوں میں زخمی ہونے والے تقریباً 50 افراد کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرادیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ریاست کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ زخمیوں کا علاج نجی ہسپتالوں میں کیا جائے گا۔ حکومت نے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو پانچ پانچ لاکھ روپے معاوضہ اور ایک سرکاری نوکری جبکہ زخمی ہونے والوں کے خاندان والوں کو پچیس پچیس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ دھماکوں کو ریاست کی خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ان دھماکوں کے پیچھے غیر ملکی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔ سنیچر کی شام حیدرآباد شہر میں ہونے والے دو دھماکوں میں 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پہلا دھماکہ لمبنی پارک کے اوپن ایئر تھیٹر میں ہوا جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت تھیٹر میں تقریباً پانچ سو افراد موجود تھے۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں ناسک سے تعلق رکھنے والے چار طالبعلم بھی شامل ہیں۔ دوسرا دھماکہ ایک چاٹ کی دکان پر ہوا جہاں دھماکے کے وقت کافی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی میں حیدرآباد کی مکّہ مسجد میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ اس واقعہ کے بعد پولیس فائرنگ میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں حیدرآباد دکن میں دھماکے، اکتالیس ہلاک25 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد دکن میں دھماکے، 30 ہلاک25 August, 2007 | انڈیا ’مکہ مسجد دھماکہ، تفتیش CBI سے‘22 May, 2007 | انڈیا مکہ مسجد دھماکے: ایک شخص گرفتار25 May, 2007 | انڈیا حیدرآباد میں ہڑتال، کشیدگی برقرار19 May, 2007 | انڈیا مسجد میں دھماکہ، چودہ افراد ہلاک18 May, 2007 | انڈیا حیدر آباد دھماکہ: ملزمان کا ریمانڈ19 December, 2005 | انڈیا مکہ مسجد دھماکہ، جالنہ سے گرفتاری01 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||