BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 August, 2007, 20:10 GMT 01:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیدرآباد دکن میں دھماکے، اکتالیس ہلاک

بتیس افراد چاٹ کی دکان پر ہونے والے دھماکے کا نشانہ بنے
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں ہونے والے دو دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اکتالیس ہوگئی ہے۔

ریاستی وزیرِ داخلہ جنا ریڈی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

بھارتی صدر پرتیبھا پٹیل نے بھی ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک ایسے شہر کے حالات کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیا ہے جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے۔

آندھرا پردیش کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان میں سے نو لمبنی پارک میں ہونے والے دھماکے میں مارے گئے جبکہ بقیہ بتیس افراد چاٹ کی دکان پر ہونے والے دھماکے کا نشانہ بنے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دھماکے سے متاثرہ پچاس افراد کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ لمبنی پارک کے اوپن ایئر تھیٹر میں ہوا۔جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت تھیٹر میں تقریباً پانچ سو افراد موجود تھے۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں ناسک سے تعلق رکھنے والے چار طالبعلم بھی شامل ہیں۔ دوسرا دھماکہ ایک چاٹ کی دکان پر ہوا جہاں دھماکے کے وقت کافی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

دھماکوں میں زخمی افراد کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کروایا جا رہا ہے
حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ کلکٹر آر وی چندرودن کے مطابق تاحال ان دھماکوں کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش کے دوران کچھ اہم سراغ ہاتھ آئے ہیں جن پر کام جاری ہے لیکن تاحال کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ کلکٹر حیدرآباد کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر میں دو دھماکوں کے بعد دل سکھ نگر کے علاقے میں ایک پل سے بھی دھماکہ خیز مواد ملا ہے جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔، ان کے مطابق حیدرآباد شہر میں ریڈ الرٹ ہے اور تمام عوامی مقامات کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

اس سے قبل آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ وائی ایس آر ریڈی نے کہا تھا کہ یقینی طور پریہ ایک دہشتگردانہ کارروائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الوقت عام شہریوں کو کسی قسم کی افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے اور پرامن طریقے سے حالات کا سامنا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں حیدرآباد کی مکّہ مسجد میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ اس واقعہ کے بعد پولیس فائرنگ میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد