BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 16:24 GMT 21:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی: گیارہ جولائی 2006 کی یاد

ممبئی دھماکوں کی برسی
گیارہ جولائی دو ہزار چھ کو ممبئي کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی پہلی برسی پر موقع جہاں ایک طرف ریاستی حکومت خاموشی اختیار کيے ہوئے ہے وہيں عوام نے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا ہے۔

ویسٹرن ریلوے کے جنرل مینجر اے کے جھنگران نے صبح گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر ماہم ریلوے سٹیشن پر منعقد ایک پروگرام میں جاں بحق ہونے والوں کو یاد کیا اور اس جگہ جہاں بم دھماکہ ہوا تھا وہاں یادگار پر پھول چڑھائے۔

شام چھ بج کر چھبیس منٹ پر چرچ گیٹ سے ایک ٹرین بوریولی کے لیے چلائی گئی۔ اس کے ڈبوں میں بوگی نمبر 864A لگائی گئی۔ یہ وہ بوگی تھی جو ماہم کے بم دھماکے میں تباہ ہو گئی تھی۔

حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا البتہ حزب اختلاف کی جماعت کے لیڈر ایل کے ایڈوانی نے ممبئی میں ایک پروگرام میں شرکت ضرور کی۔

ممبئی میں گزشتہ برس ویسٹرن ریلوے کی ٹرینوں میں فرسٹ کلاس کے سات ڈبوں میں یکے بعد دیگر سات دھماکے ہوئے تھے۔ پہلا دھماکہ شام چھ بج کر چوبیس منٹ پر کھار ٹرین میں ہوا تھا۔ اس کے بعد محض دس منٹ میں سات دھماکے ہوئے تھے جس میں تقریبا دو سو افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

شہر میں خصوصی طور پر ریلوے حدود میں پولیس انتظامات میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پی ایس پسریچا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس موقع پر پولیس کے اضافی انتظامات کیے گئے تھے۔ ریلوے پولیس کے حفاظتی عملے کے ساتھ پولیس کو جوان بھی ریلوے پلیٹ فارمز پر تعینات ہیں۔انٹیلیجنس ایجنسیاں الرٹ ہیں‘۔

ممبئي
ممبئي کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی پہلی برسی پر ٹرینوں پر رش عام دنوں سے مختلف نہیں تھا

ٹرینوں میں دھماکوں کے بعد عوام کے تحفظ کے لیے میٹل ڈیٹیکٹر اور سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن سب فائلوں میں دھول چاٹ رہا ہے۔ البتہ گزشتہ چند دنوں سے ریلوے نے ہر پلیٹ فارم پر پولیس والے متعین کیے ہیں جو مسافروں کے سامان کی تلاشی لے رہے ہیں۔ چرچ گیٹ سٹیشن جہاں سے بمباروں نے سات الگ الگ ٹرینوں سے سوار ہو کر فرسٹ کلاس کے ڈبوں میں بم رکھے تھے، وہاں میٹل ڈیٹیکٹر لگایا گیا ہے۔ تاہم پولیس ذرائع کے مطابق وہاں معمول کے مطابق بھیڑ تھی۔لوگ بے خوف ہو کر عام دنوں کی طرح ٹرین میں سوار ہو رہے تھے۔

ویرل شاہ صرافہ بازار ایجنٹ ہیں اور روزانہ چرچ گیٹ سے ویرار تک ٹرین کے ذریعہ سفر کرتے ہیں۔ آج بھی صبح وہ اسی طرح ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے میں سوار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ ممبئی کے لوگ بہت ہمت والے ہیں، میں مانتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ یہ نا کریں تو کیا کریں کیونکہ ٹرین سفر کا ایک سستا ذریعہ ہے اور ممبئی جیسے شہر میں روزی کمانے کے لیے پتہ نہیں کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں‘۔

ویرل کو اس بات کا دکھ ہے کہ جس حکومت اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کی لاپرواہی کی وجہ سے مسافروں نے اپنی جانیں گنوائیں ہیں اس سے وہ جاں بحق ہونے والوں کو یاد کرنے کی امید نہیں کرتے۔

پولیس اصل ملزموں تک نہیں پہنچی
 پولیس دھماکوں کو ایک سال ہونے کے بعد بھی اصل ملزمان کو تک نہیں پہنچ سکی

ہر شہری ویرل کی طرح نہیں ہوتا۔ کئی شہری ان خوفناک یادوں سے آج بھی اپنا پیچھا نہیں چھڑا پائے ہیں۔ نیلم شیلیٹکر انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں انسپکٹر ہیں۔ جوگیشوری میں رہتی ہیں۔ انکم ٹیکس صدر دفتر چرچ گیٹ پر ہے اور اسی لیے وہ روزانہ اسی ٹرین کے ذریعہ سفر کر کے چرچ گیٹ آتی ہیں۔ جس میں دھماکہ ہوا تھا وہ اسی کے دوسرے کمپارٹمنٹ میں تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں آج بھی جب ڈبے میں چڑھتی ہوں تو اس قیامت خیز منظر کی یاد آجاتی ہے۔ میں آج بھی رو رہی ہوں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جن کے گھر میں کسی کی موت ہوئی ہو گی یا کوئی زخمی ہوا ہو تو ان پر کیا بیت رہی ہو گی‘۔

وہ دھماکے کس نے کیے اور اصل مجرم کون ہے؟ پولیس دھماکوں کو ایک سال ہونے کے بعد بھی اصل ملزمان کو تک نہیں پہنچ سکی۔ انسداد دہشت گرد عملہ نے ان دھماکوں کے لیے اسلامی تنظیم لشکر طیبہ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور اسی کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے لیے سیمی کے مقامی اراکین کو اس میں ملوث بتایا تھا۔

ممبئی
ممبئي کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی پہلی برسی ماہم کے ریلوے سٹیشن پر بنائی گئی یاد گار پر پھول چڑھائے گئے

گزشتہ روز چند نیوز چینلز نے بم دھماکوں میں گرفتار دو ملزمان محمد علی اور نوید کے اقبالیہ بیان کی سی ڈی نشر کی جس کی ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اعلی سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اے ٹی ایس کے سابق سربراہ کے پی رگھوونشی نے بتایا کہ ’جو سی ڈی جاری کی گئی ہے وہ ہم نے عدالت میں پیش نہیں کی اور ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ کس طرح میڈیا تک پہنچی‘۔

ملزمان کے خلاف گزشتہ برس تیس نومبر کو مکوکا کی خصوصی عدالت میں مقدمہ پیش کیا گیا۔ اٹھائیس جولائی کو جسٹس مردولا بھاٹکر کی عدالت میں کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔

انڈیا میں دھماکے
انڈیا میں ہونیوالے بڑے دھماکوں کی فہرست
بارہ جولائی کی صبح
یہی تو میرا ممبئی ہے: ریحانہ بستی والا
ذمہ دار کون؟
ممبئی دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
ممبئی بم دھماکے
تفتیش جاری ہے مگرابھی تک سراغ نہیں ملا انڈیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد