BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 September, 2006, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں دھماکے: چشمدیدوں کی نظر سے

کم سے کم بیالیس ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے
جمعہ کے روز مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ ان دھماکوں کے چشمدید اس واقع کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

ادے کلکرنی نامی ایک وکیل بم دھماکوں کے فورا بعد متاثرہ علاقہ ميں پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بم دھماکوں کے وقت میں عدالت میں تھا۔ لیکن جیسے ہی مجھے دھماکوں کے بارے میں اطلاع ملی میں وہاں پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں افرا تفری کا ماحول تھا۔ ہر انسان گھبراہٹ میں ادھر سے ادھر بھاگ رہا تھا۔ میں نے بہت سے ایسے افراد کو دیکھا جو حادثے میں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔‘


یہ بم دھماکے شب برات کے روز جمعہ کی نماز کے بعد اس وقت ہوئے جب نمازی قبرستان میں اپنے بزرگوں کی قبر پر دعا پڑھ رہے تھے۔ شب برات کے روز لوگ بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔

مسٹر کلکرنی کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں بیشتر غریب بھکاری ہیں جو قبرستان کے دروازے پر بھیک مانگنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس زخمیوں کی مدد کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔

 بہت سے لوگ ایسے تھے جن کے ہاتھ پیر جا چکے تھے۔ شہر کا ہر شخص ہسپتال کا رخ کر رہا تھا لہذا میں نے بھی دو آدمیوں کو آٹو رکشہ سے ہسپتال پہنچایا۔ وہاں پہنچتے ہی میں نے زخمیوں کو ڈاکٹروں کے سپرد کردیا۔ ان میں سے ایک اس قدر زخمی تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑے گی لیکن افرا تفری کے اس عالم میں اس شخص کا نام نہیں پوچھ پایا۔
دھماکوں کے ایک عینی شاہد
’بہت سے لوگ ایسے تھے جن کے ہاتھ پیر جا چکے تھے۔ شہر کا ہر شخص ہسپتال کا رخ کر رہا تھا لہذا میں نے بھی دو آدمیوں کو آٹو رکشہ سے ہسپتال پہنچایا۔ وہاں پہنچتے ہی میں نے زخمیوں کو ڈاکٹروں کے سپرد کردیا۔ ان میں سے ایک اس قدر زخمی تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑے گی لیکن افرا تفری کے اس عالم میں اس شخص کا نام نہیں پوچھ پایا۔‘

دھماکوں کے وقت جب لوگ زخمیوں کو ہسپتال میں لانا شروع ہوئے اس وقت مالیگاؤں میڈیکیئر ہسپتال کے ڈاکٹر وردھمان لودھا اپنی دوپہر کی ڈیوٹی پر تھے۔ ڈاکٹر وردھمان کا کہنا تھا کہ بہت سارے مقامی لوگ زخمیوں کو ہسپتال لے کر آئے جس میں سے بیس کو ہسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ بعض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر چکے تھے۔ چھ سے سات سالہ تین بچے پہلے ہی مر چکے تھے۔ ان کو پوسٹ مارٹم کے لیے دوسرے مقام میں منتقل کردیا گیا۔ ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔ ہمیں دوسرے زخمیوں کو دیکھنا تھا۔‘

ڈاکٹر لودھا نے مزید بتایا کہ جو 20 لوگ ہسپتال میں داخل کیے گئے تھے وہ بری طرح زخمی تھے اور ان کی ٹانگوں، چہرے اور جسم کے مختلف حصوں میں چوٹیں آئی تھیں۔ دو لوگ خون کی کمی کے سبب بے حد نازک حالت میں تھے۔ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو دہشت میں تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حالات سے نمٹنے کے لیے ان کی ایمرجنسی ٹیم تیار تھی اور زخمیوں کے لیے طبی ٹیم نے مختلف انتظامات فورا شروع کر دیے تھے۔

مالیگاؤں شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔ ڈاکٹر لودھا اور انکا اسٹاف ان فسادا ت کے نتائج سے پیدا ہونے والی صورتحال سے باخوبی واقف تھے۔

ڈاکٹر لودھا کا کہنا تھا کہ دو برس پہلے بھی شہر میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور ان واقعات کے بعد بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے اور انہیں ان کے ہسپتال میں بھرتی کیا گیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ ’اس قسم کے حالات سے نمٹنے کی ہمیں عادت ہے۔‘

حالات اب پر امن ہیں لیکن لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آوروں نے مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ ہو سکتاہے کہ اب ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کچھ غلط ہو اور مزید زخمی یہاں آئيں۔ انکا کہنا تھا کہ ’تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے مناسب یہی ہو کہ ہم سب الرٹ رہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد