مالیگاؤں دھماکے:43 ہلاک، سو زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر میں پاور لوم صنعت کے لیئے مشہور شہرمالیگاؤں میں جمعہ کی دوپہر ہونے والے چار بم دھماکوں میں اب تک 43 افراد کے ہلاک اور سو سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سنیچر کو بھی ایک زخمی شخص انیس باغبان ہسپتال میں دم توڑ گیا۔انسپکٹر جنرل پولیس پی کے جین نے بتایا ہے کہ دھماکے میں آر ڈی ایکس استعمال ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ عینی شاہدین سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔ ادھر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مرکزی وزیر شیوراج پاٹیل کے ہمراہ شہر مالیگاؤں کا دورہ کیا۔ مرکزی حکومت کے وزیر نے جب دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ کے چیک تقسیم کرنے شروع کیے تو وہا ں ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ مہارشٹرا کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیش مکھ نے اعتراض کیا اور کہا کہ جب ممبئی میں بم دھماکے ہوئے تو متاثرین کو ریاستی حکومت کی جانب سے ایک ایک لاکھ کے چیک دیئے گئے جبکہ ریلوے نے ہر مرنے والے کے لواحقین کو پانچ لاکھ کا چیک دیا تھا۔ مالیگاؤں کے بڑے قبرستان کی حمیدیہ مسجد میں نماز جمعہ کے فوراً بعد دو دھماکے ہوئے، جبکہ تیسرا دھماکہ قبرستان کے مین گیٹ پر اور چوتھا قبرستان کے عقب میں مشاورت چوک پر ہوا۔ اس وقت لوگ نماز پڑھ کر مسجد سےباہر آرہے تھے جبکہ کچھ لوگ ابھی دعا کے لیئے اندر ہی موجود تھے۔ حمیدیہ مسجد کے پیش امام عبد الباری نے بتایا ہے کہ اب تک 42 افراد کو دفن کیا جاچکا ہے جن میں بیس بچے شامل تھے۔ لیکن ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پی ایس پسریجا نے ہلاکتوں کی تعداد صرف بتیس بتائی۔ مالیگاؤں کے علی اکبر ہسپتال کے ڈاکٹر حسن الدین نے بتایا ہے کہ ہسپتال میں اب تک 122 زخمی لائے گئے ہیں جبکہ واڈیا ہسپتال میں تین لاشوں کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ جمعہ کو شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا لیکن سنیچر کے روز حالات قابو میں ہیں اور کرفیو اٹھا لیا گیا ہے تاہم شہر میں آر اے ایف یا Rapid Action Force تعینات کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے قبرستان کا 200 میٹر کا علاقہ پولیس کے کنٹرول میں ہے۔
مقامی افراد کا الزام ہے کہ عموماً نماز جمعہ کے لیئے مقامی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے تاہم اس جمعہ کو وہاں کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔ دھماکوں کے بعد لوگوں نے پولیس سٹیشن پر پتھراؤ بھی کیا۔ تاہم اے ایس پی آر ایس تڑوی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے وقت وہاں دو پولیس گاڑیاں اور دو پولیس اہلکار موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد نگر پولیس سٹیشن کے سینیئر پولیس انسپکٹر شیخ ناصر وہاں موجود تھے اور خود بھی جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔ مولانا عبدالباری کا کہنا ہے کہ تین ستمبر کو انہوں نے علاقے کے معززین پر مشتمل امن کمیٹی کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی جس میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شب برات کے موقع پر ارد گرد کے گاؤوں سے یہاں 10 سے پندرہ ہزار فقیر جمع ہوتے ہیں جن کے بھیس میں دہشتگرد یہاں کارروائی کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبرستان کے نزدیک پھول بیچنے والے افراد پر پابندی تھی تاہم شب برات پر انہیں پھول بیچنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ علاقے کے سوشل ورکر شکیل احمد حمدانی کا کہنا ہے کہ دھماکوں سے قبل دو پھول کی ٹوکریوں سے دیسی ساخت کے بم بھی برآمد کیئے گئے تھے جنہیں بعد میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔
مقامی افراد کا یہ بھی الزام ہے کہ علاقے میں طبی سہولیات کی کمی کے باعث بہت سے افراد کی جانیں نہ بچائی جاسکیں۔ ہسپتال میں ادویات، ٹیکوں اور دیگر طبی اسمان کے ساتھ ساتھ بسر کی چادروں تک کی کمی ہے۔ تاہم علی اکبر ہسپتال کے منتظمین نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ حمیدیہ مسجد میں ہلاک ہونے والے ایک شخص شفیق عبدالرؤف فیکٹری ورکر تھے اور اپنے ضعیف والدین اور بیوی بچوں کی کفالت کا واحد ذریعہ بھی تھے۔ وہ اپنے 4 سالہ بچے کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیئے گئے تھے تاہم ان کا بچہ دھماکے سے محفوظ رہا لیکن وہ خود جانبر نہ ہوسکے۔ اب یہ چار سالہ بچہ شدید دہشت زدہ ہے۔ جائے وقوعہ سے دو سائیکلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بم سائیکلوں پر نصب کیئے گئے تھے۔ مالیگاؤں ممبئی سے ایک سو اسی کلومیٹر دور ہے۔ اس سے پہلے بھی مالیگاؤں میں فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں۔ شہر کی غیر مسلم اقلیت کو پولیس نے دھماکوں کے بعد ردعمل کے ڈر سے سکیورٹی فراہم کردی ہے۔ مہاراشٹر کے چیف منسٹر ولاس راؤ ویش مکھ، مرکزی وزیر داخلہ شو راج پٹیل اور سونیا گاندھی نے علاقے کا دورہ کیا ہے جبکہ دیگر سیاستدانوں کی آمدورفت بھی جاری ہے اور جمیعت علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار31 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید دو افراد گرفتار 25 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا سرینگر: پانچ دھماکے،آٹھ ہلاک11 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||