مالیگاؤں: بچوں کی آنکھوں میں خوف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مالیگاؤں میں بڑے قبرستان کی حمیدیہ مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گیارہ سالہ اشعار ملک بھی گئے تھے لیکن وہ زندہ واپس نہیں لوٹے۔ ان کے ساتھ ان کے چچیرے بھائی فیصل، فہد اور نوید انجم بھی تھے۔ تینوں پیر، ہاتھ اور سینے میں زخموں کے سبب ہسپتال میں ہیں۔ دھماکے میں گيارہ سالہ فہد ملک کے دونوں پیروں پر چوٹ آئی ہے۔ جبکہ نوید انجم کے دونوں ہاتھوں پر چوٹ ہے اور سینہ پھٹ گیا ہے۔ فیصل کہتے ہیں کہ دعا کے بعد ’ہم اپنی دری سمیٹ رہے تھے کہ اچانک کچھ اڑتا ہوا سامنے نظر آیا دیکھا تو اشعار کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک صاحب اسے فورا لے کر بھاگے۔ میں بھاگا بھاگا گھر آيا اور بتایا کہ اشعار کو ہسپتال لے جایا گيا ہے لیکن شام کو ہسپتال سے اشعار کی لاش آئي‘۔ نوید انجم اور فہد کو بھی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ فہد فیصل اشعار اور نوید اکثر ایک ساتھ نماز پڑھنے جاتے تھے لیکن اس واقعے سے وہ اتنے سہم گئے ہیں کہ انہیں مسجد جانے سے ڈر لگتا ہے۔ نو سالہ فہد کہتے ہیں ’مجھے بہت ڈر لگتا ہے اور اب میں مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاؤں گا‘۔ فیصل اور نوید بھی اب مسجد میں دوبارہ جانے سے ڈرتے ہیں۔ شکیل ہمدانی بلاسٹ کے بعد افراتفری کے چشم دید گواہ ہیں وہ کہتے ہیں دور دور تک بھگدڑ ہی بھگدڑ تھی اور پولیس کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ ’عام طور پر ایسے موقعوں پر انتظامیہ حفاظتی بند وبست کرتی ہے لیکن جب جمعہ کی نماز میں اتنی بڑی تعداد لوگ جمع ہوتے ہیں تو یہاں حفاظتی بند وبست کیوں نہیں کیئے گئے تھے‘۔ شہر میں عام طور پر لوگ یہی شکایت کرتے ہیں کہ جب ریاست میں چوکسی برتی جارہی تھی تو پھر بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر سکیورٹی کا انتظام کیوں نہیں تھا۔ | اسی بارے میں 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار31 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید دو افراد گرفتار 25 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا سرینگر: پانچ دھماکے،آٹھ ہلاک11 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||