لواحقین سراپا انتظار مگر لاشوں کی شناخت دشوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو سمجھوتہ ایکسپریس پر بم دھماکوں کے بعد جل کر ہلاک ہو جانے والوں کی لاشیں پانی پت کے ہسپتال میں رکھ دی گئی ہیں جہاں سے شناخت کے بعد لاشوں کو ورثاء کے سپرد کیا جائے گا۔ ادھر منگل کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری منگل کی صبح دلی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ امن کے عمل کے سلسلے میں اپنے بھارتی ہم منصب سے بدھ کو باضابطہ مذاکرات کریں گے۔ توقع ہے کہ خورشید قصوری سمجھوتہ سانحے پر بھی بھارتی حکام سے بات چیت کریں گے۔ ہندوستان اور پاکستان کے رہنما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سمجھوتہ سانحے سے امن کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پانی پت میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی اعداد شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرین بم دھماکوں میں مرنے والے 66 افراد میں سے اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔ تاہم اب تک صرف گیارہ لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے۔ توقع ہے کہ پانی پت میں رکھے ہوئے تابوت اگلے چند روز میں پاکستان روانہ کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔ اتوار کی رات پانی پت میں جل جانے والوں کے پاکستانی لواحقین انتہائی مضطرب اور پریشان ہیں کہ انہیں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی۔
پیر کی رات بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے پانی پت سے بتایا کہ لاشوں کی شناخت کا مرحلہ انتہائی دشوار گزار ہے اور جلی ہوئی لاشوں کو دیکھ کر یقین سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون کہاں کا رہنے والا ہے۔ دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان نے بھارت سے ہلاک و زخمی ہونے والوں کی فہرست کی درخواست کی ہے لیکن اس کے حصول میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے شہریوں کی لاشوں اور زخمیوں کو وطن واپس بیھجنے کے لیے C-130 خصوصی طیارے کو ہندوستان روانہ کرنے کی تیاری کر رکھی ہے اور جیسے ہی بھارت سے اجازت ملی، یہ طیارہ دلی سے لاشیں اور زخمیوں کو لانے چلا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر کچھ پاکستانی زخمیوں کو ابھی پانی پت کے ہسپتال میں رکھا جائے گا اور جب ان کی حالت کچھ بہتر ہوگی تو انہیں پاکستان روانہ کر دیا جائے گا۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس بات کی توقع ہے کہ منگل کو کچھ پاکستانی شہری انڈیا آئیں گے تاکہ لاشوں کی شناخت اور حوالگی ممکن ہو سکے۔ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ ٹرین سانحے میں ہلاک ہوجانے والے ایک خاندان کے فرد رانا شبیر نے لاہور میں بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ مرنے والوں کے لواحقین کو لاشوں کی شناخت کے لیے ویزے دینے کی غرض سے واہگہ میں عارضی ویزا کاؤنٹر کھولا گیا ہے لیکن پیر کو بہت ہی کم افراد کو ویزا مل سکا۔ رانا شبیر نے کہا کہ ویزے کی مشکل کے علاوہ عام لوگوں کی پریشانی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ انڈیا جانے کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔ ’ہم سے کہا گیا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف ٹیکسی کا انتظام کرو۔‘ پاکستان میں ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد نے نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان انڈیا سے اپنے شہریوں کے تابوتوں اور زخمیوں کو لانے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ طیارہ بھیجنا چاہتی ہے لیکن ابھی تک بھارت نے اس کی اجازت نہیں دی۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر بم دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں پر امید ہیں کہ انہیں جلد ہی دھماکے کرنے والوں کا سراغ مل جائے گا کیونکہ ان کے ہاتھ کچھ ثبوت لگے ہیں۔ دریں اثناء بھارت میں ریلوے کے وفاقی وزیر لالو پرساد یادو نے کہا ہے کہ اتوار کو ٹرین پر ہونے والے بم دھماکے یقیناً سیکورٹی میں چُوک کے باعث ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو بھی اس واقعے کے پیچھے ہے اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور بھارت کے رشتے کو بگاڑنا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ممبئی میں گزشتہ برس ٹرین پر بم حملوں کے نتیجے میں ہندوستانی ردِ عمل کے برعکس اس مرتبہ دونوں ممالک میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے پر کوئی الزام عائد نہیں کیا ہے۔ |
اسی بارے میں تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے03 November, 2006 | پاکستان پاک بھارت ریل رابطہ بحال15 January, 2004 | پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس روانگی کے لئے تیار14 January, 2004 | صفحۂ اول سمجھوتہ ٹرین کے لیے بات چیت17 December, 2003 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||