’مرنے والوں کی کوئی ذات ہوتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکوں میں لوگوں کی جانیں گئیں لیکن انسانی جذبے کو مارنے میں کسی کو کامیابی نہیں ملی۔ پانی پت کے شواہ گاؤں کے پاس جب شعلوں میں گھری سمجھوتہ ایکسپریس آ کر رکی تو مدد کے لیے پورا گاؤں امڈ پڑا۔ ایسے ہی ایک شخص ہیں کلدیپ سنگھ جو حادثے کے وقت سے ہی لوگوں کی مدد میں لگے ہیں۔ وہ دوپہر دیر تک لوگوں کی مدد میں لگے ہوئے تھے اور جب جلے ہوئے ڈبے دور لے جائےگئے تو کلدیپ اپنے دوست سلیم کے ساتھ مل کر پولیس والوں کو ہی پانی پلانے کے کام میں لگ گئے۔ اس واقعے کے بارے میں میں کلدیپ بتاتے ہیں ’چیخ و پکار سے میری آنکھ کھل گئی۔ یہاں پہنچا تو دیکھا کہ ٹرین میں آگ لگی ہوئی ہے اور لوگ بھاگ رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’آگ بہت تیز تھی۔ایک خاتون کے تو پانچ بچے جل گئے۔ لاشیں بری طرح جلی ہوئی تھیں اور ایک دوسرے سے چپکی ہوئی تھیں۔ ہم نے کئی افراد کو ٹرین سے باہر نکالا اور ٹرین پر پانی ڈالا جب آگ بجھی‘۔
جلے ہوئے ڈبوں میں سامان تلاش کرتے ایک اور مدد گار سوم ملہوترا بہت ناراض دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا’یہ بتائیے کہ مرنے والوں کی کوئی ذات ہوتی ہے؟ کوئی مذہب ہوتا ہے؟ وہ تو انسان ہوتے ہیں۔جس نے انہیں مارا ہے اگر وہ یہ منظر دیکھے تو شاید اسے بھی پتہ چلا کہ اس نے کیا کیا!‘۔ سوم ملہوترا کا تعلق شواہ گاؤں سے نہیں ہے لیکن دھماکے کی خبر سنتے ہی وہ مدد کرنے شواہ گاؤں پہنچ گئے۔گاؤں کے کئی بڑے بوڑھے ٹرین کے پاس جمع رہے اور کوشش کرتے رہے کہ جو کچھ مدد ممکن ہو کی جائے۔ ادھر پولیس والوں کہنا ہے کہ ایک دو لاشیں ابھی بھی پھنسی ہوسکتی ہیں کیونکہ ٹرین سے ابھی بھی بدبو اٹھ رہی ہے۔ | اسی بارے میں جلی ہوئی چوڑیاں اور کنگن19 February, 2007 | انڈیا ’لوگ جلتے ڈبوں سےکود رہے تھے‘19 February, 2007 | انڈیا دھماکہ: کشمیری خاتون بھی ہلاک19 February, 2007 | انڈیا ’پاکستانی مسافروں کی ہر ممکن مدد‘19 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||