’گھرمیں کہرام مچاہے، مدد کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد کے علاقے سمن آباد کے رہائشی مجیب الرحمان کی فیملی کے چھ افراد سمجھوتہ ایکسپریس دھماکےمیں ہلاک ہو ئے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی دلی کے ایک ہسپتال میں موت سے نبرد آزما ہیں جبکہ پاکستان میں ان کا خاندان سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ مجیب نے بی بی سی اردو سروس کی نعیمہ احمد مہجور سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی شوکت رانا، ان کی اہلیہ اور ان کے چھ بچے سمجھوتہ ایکسپریس سے پاکستان آرہے تھے۔’ہمیں بتایا گیا تھا کہ ان کے پانچ بچے ہلاک ہوئے ہیں اور بھائی، بھابی زخمی حالت میں دلی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں لیکن رشتہ داروں نے فون پر بتایا ہے کہ بھابی ہسپتال میں فوت ہوگئی ہیں۔‘ مجیب کا کہنا تھا کہ بھائی شوکت رانا بے ہوش ہیں اور چونکہ بھابی زندہ نہیں رہیں اس لیے ان کے بچوں کی لاشوں کی شناخت نہیں ہو پارہی ہے۔’ پندرہ سال سے لیکر ایک سال کی عمر تک ان کے چھ بچے ساتھ تھے جس میں سے ایک لڑکی بچی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک بچی کی عمر ایک سال سے بھی کم ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہیلپ لائنز سے کوئی خاص مدد نہیں ملی بلکہ ٹی وی اور دیگر ذرائع سے زیادہ اطلاعات ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میرے بڑے بھائی میرا کزن اور اس کا بیٹا واہگہ بارڈر گئے ہیں، میرے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے اور ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔‘ مجیب کا کہنا تھا کہ شوکت اپنی فیملی کے ساتھ بھارت رشتہ داروں سے ملنے گئے تھے اور واپسی کے وقت گھر والوں کو فون کرکے اپنی آمد کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کی شناخت کے لیے ان کے بڑے بھائی واہگہ گئے ہیں لیکن اس کے بعد سے انہیں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’سمجھوتہ ایکسپریس پر دھماکے تخریب کاری تھی‘18 February, 2007 | پاکستان فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت19 February, 2007 | پاکستان ’دھماکوں کی تحقیقات کرائیں‘19 February, 2007 | پاکستان امن مذاکرات جاری رہیں گے: پاکستان19 February, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||