BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمجھوتہ سکیورٹی میں اتنی غفلت کیوں؟

قمر الدین ڈبے میں زندہ بچنے والا واحد خوش نصیب ہے
ہندوستان میں پانی پت کے ایک ہسپتال میں ملتان سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ گوالے قمر الدین زخمی حالت میں ہسپتال کے ایمرجنسی روم کے بستر پر موجود ہیں۔

قمر الدین کو نہیں یاد پڑتا کہ جب وہ پرانی دلی کے ریلوے سٹیشن سے اتوار کی رات سمجھوتہ ایکسپریس پر سوار ہوئے تھے تو وہاں کسی قسم کی سکیورٹی چیکنگ کی گئی ہو۔ ریل مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور اس ڈبے کی سیٹوں کی ریزرویشن بھی نہیں ہوئی تھی۔

ریل گاڑی چلنے کے ایک ہی گھنٹے کے بعد ڈبے میں زور دار دھماکہ ہوا ور قمر الدین بے ہوش ہوگئے۔ تاہم وہ اپنے بیشتر ساتھیوں سے خوش قسمت رہے کیونکہ کئی اس دھماکے کے بعد جانبر نہ ہوسکے۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ قمر کے ہاتھوں پر جلنے کے معمولی زخم ہیں جو جلد بھر جائیں گے تاہم ان کی دمہ کی صورتحال پریشان کن ہے۔

پرانی دلی کا ایک مکینک محمد سیف اپنی خالہ اور بھانجی کو ڈھونڈ رہا ہے جو کراچی اپنے گھر واپس لوٹنے کے لیے ٹرین پر سوار ہوئی تھیں۔

سیف کا بھی یہی کہنا ہے کہ اپنی 55 سالہ خالہ اور 20 سالہ بھانجی کو ٹرین پر چھوڑتے وقت ان کے سامان کی کوئی چیکنگ نہیں کئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم اور ٹرین مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔

چوڑیاں دیکھی تھی
 میں نے بھی چند لاشیں باہر نکالیں۔ میرے خیال میں یہ عورتوں کی لاشیں تھیں۔ یہ لاشیں مکمل طور پر جلی ہوئی تھیں اور کالی ہوچکی تھیں لیکن میرے خیال میں میں نے ان کے ہاتھوں میں چند چوڑیاں دیکھی تھیں‘۔
شو رام

ان حالات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کئی دھماکے ہونے کے بعد بھی ہندوستان ٹرینوں کی سکیورٹی کے بارے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہے، خاص طور پر اس ٹرین کی سکیورٹی کے لیے جو پاک-ہندوستان تعلقات کے دشمنوں کا نشانہ ہوسکتی ہے۔

واضح طور پر ریل کے دو نیلے ڈبوں کی چیکنگ میں غفلت ہی دھماکوں کا موقع فراہم کرنے کی بڑی وجہ ہے۔

دھماکوں کے بعد جائے وقوعہ پر حسب معمول سیاستدانوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور ڈاکٹروں کاہجوم لگ گیا۔ تاہم یہ لوگ اس انسانی المیے کا اندازہ نہیں لگاسکتے جو متاثرین کےساتھ پیش آیا ہے اور جنہیں ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کی لاشیں شناخت کرنا پڑ رہی ہیں۔

ہسپتال کے ایک وارڈ کے باہر موجود شخص کہہ رہا ہے ’کیا میں اندر جاسکتا ہوں؟ میری بہن ٹرین پر تھی مگر اب تک نہیں مل سکی ہے‘۔ دراصل یہ وارڈ عارضی مردہ خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

اس مردہ خانے میں پلاسٹک کے تھپیلوں میں 65 جلی ہوئی لاشیں ہیں۔ واقعے کے بارہ گھنٹے بعد بھی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب تک صرف ایک لاش کو شناخت کیا گیا ہے۔ بیشتر لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ ان کی شناخت ناممکن ہے تاہم ہسپتال کے معاملات سست رفتاری سے طے کیے جارہے ہیں جس سے لاپتہ افراد کی تلاش میں آنے والوں کی اذیت میں اضافہ ہورہا ہے۔

ہار
ٹرین سے ملنے والا ایک جلا ہوا ہار

محمد سیف بارہ گھنٹوں میں بھی اپنی خالہ اور بھانجی کی شناخت نہیں کرسکا ہے۔ سیف کا کہنا ہے کہ ان کی خالہ 16 سال بعد پہلی مرتبہ انڈیا آئی تھیں اور ابھی واپس نہیں جانا چاہتی تھیں تاہم ان کے ویزے کی میعاد میں توسیع نہیں کی گئی اور انہیں واپس لوٹنے کے لیے اس ٹرین پر سوار ہونا پڑا۔

اگرچہ پانی پت انڈیا کا خاصا خوشحال شہر ہے اور ایک ’بین الاقوامی‘ معیار کے شہر کی تصویر پیش کرتا ہے تاہم اس کے ایک بھی ہسپتال میں برنز یونٹ (یا جل جانے والے افراد کے لیے علاج) کی سہولت موجود نہیں ہے۔ چنانچہ 12 شدید زخمی افراد کو دہلی کے ہسپتال میں منتقل کرنا پڑا ہے۔

شناخت ناممکن
 مردہ خانے میں پلاسٹک کے تھپیلوں میں 65 جلی ہوئی لاشیں ہیں۔ واقعے کے بارہ گھنٹے بعد بھی اب تک صرف ایک لاش کو شناخت کیا گیا ہے۔ بیشتر لاشیں اتنی جلی ہوئی ہیں کہ ان کی شناخت ناممکن ہے۔
ڈاکٹرز

ٹرین کے جلے ہوئے ڈبے اس المیے کی جیتی جاگتی تصویر ہیں جہاں انسانی لاشوں کے جلنے کی بو رچ بس گئی ہے۔ ٹرین کی سیٹوں کے جلے ہوئے ڈھانچوں پر اب بھی خون، جلے ہوئے کپڑے، انسانی بال اور جوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ساتھ ہی کئی ادھ جلے تحفوں کے وہ ڈبے بھی نظر آتے ہیں جو لوگ بطور نشانی انڈیا سے اپنے رشتہ داروں کے لیے لے کر جارہے تھے: انڈیا کے معروف سنیکس، مصالحے، میوے وغیرہ۔

ٹرین کے باہر موجود ریلوے سکیورٹی کے واحد شخص شو رام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تیس سال کے تجربے میں ان کے سامنے ایسا واقعہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ شو رام نے بتایا ’رات بارہ بجے کے بعد میں جب یہاں پہنچا تو ریسکیو آپریشن شروع ہوچکا تھا۔ میں نے بھی چند لاشیں باہر نکالیں۔ میرے خیال میں یہ عورتوں کی لاشیں تھیں۔ یہ لاشیں مکمل طور پر جلی ہوئی تھیں اور کالی ہوچکی تھیں لیکن میرے خیال میں میں نے ان کے ہاتھوں میں چند چوڑیاں دیکھی تھیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد