حیدرآباد دھماکے، لوگوں نے کیا دیکھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سچ نارائن کہتے ہیں کہ میرے دوست نے پاؤ بھاجی کا آرڈر دینے کے بعد دکان دار کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ مرچی کم ڈالنا، اتنے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ پہلے لگا کہ یہ سلنڈر پھٹنے کی آواز ہے لیکن آناً فاناً اتنے لوگ زمین پر گر چکے تھے کہ دہشت طاری ہوگئی۔ ’میں اپنے دوست کے پیچھے تھا اس لیے میرے سر پر چوٹ کم آئی مگر میرا دوست گر پڑا، اس کی حالت اب بھی نازک ہے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان میں سے کئی دوبارہ گرے اور پھر اٹھ نہ سکے‘۔ بقول نارائن تقریباً تیس لوگ فوراً ہی ہلاک ہوگئے۔ ’میں نے دیکھا کہ کئی لوگوں کے اعضاء دور دور تک بکھرے پڑے تھے۔ پولیس تو بیس منٹ بعد آئی تب وہاں موجود کئی لوگ متاثرین کے موبائل اور چینز وغیرہ لوٹنے لگے۔ میں نے زندگي میں اس قدر دہشت اور افراتفری کا عالم نہیں دیکھا تھا‘۔
رمولو چنئی کے رہنے والے ہیں اور وہ بھی ہفتہ کی شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ چاٹ کھانے گئے تھے۔ میرےدوست نے زیادہ آرڈر دے دیا تھا اور ہم یہ کہنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کم کردو تبھی دھماکہ ہوا‘۔ ’ہم تھوڑے دور تھے لیکن پھر بھی ایک ٹکڑا مجھے آ کرلگا۔ اس کے بعد جو میں نے چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کو تڑپتے دیکھا تو میں بد حواس ہوگیا‘۔ رمولو کا کہنا تھا کہ یہ منظر اتنا ڈراؤنا تھا کہ چوبیس گھنٹے بعد بھی میرے ذہن و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔
موہن ریڈی لمبنی پارک میں لیزر شو دیکھنے گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ جب سبھی شو میں مست تھے تب اتنی زور کا دھماکہ ہوا کہ جیسے زمین دہل گئی ہو۔ ’ہم نے بعض چیزیں فضا میں اڑتی دیکھیں، وہ در اصل جسم کے ٹکڑے تھے جو دھماکے کے زور کے ساتھ اوپر چلے گئے تھے‘۔ موہن ہوں یا رمولو دھماکے کے منظر کو بیان کرتے وقت سبھی کے چہرے پر دہشت تھی اور سب یہی کہہ رہے تھے کہ آخر معصوموں کی جان لینے کا کیا مطلب ہے اور آخر کیا متاثرین کو انصاف مل سکے گا؟ |
اسی بارے میں حیدرآباد دھماکوں کی تحقیقات26 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||