BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اکثر ہلاک شدگان محکمۂ دفاع کے

دھماکے کا مقام
حکام کے مطابق آر اے بازار چوک خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی زیادہ تعداد سویلینز کی ہے
راولپنڈی کنٹونمنٹ کے علاقے قاسم مارکیٹ میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر محکمۂ دفاع کے ملازمین تھے جبکہ آر اے بازار چوک میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی زیادہ تعداد سویلینز کی ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحیدارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ قاسم مارکیٹ کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت محکمۂ دفاع کے ملازمین کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بس اٹامک انرجی کمیشن کے ملازمین کو روزانہ ان کے گھروں سے دفتر تک ’پک اینڈ ڈراپ‘ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بس قاسم مارکیٹ کے سٹاپ پر ملازمین کو لینے کے لیے رکی اور اس دوران ایک ’خودکش حملہ آور‘ بس کے اندر گھسا اور اس نے خود کوبم سے اُڑادیا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بس آئی ایس آئی کے ملازمین کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرتی تھی اور وقوعہ کے روز بھی جب یہ بس قاسم مارکیٹ کے قریب پہنچی تو ایک خودکش حملہ آور نے اس میں داخل ہوکر خود کو بم سے اُڑادیا۔ ہلاک ہونے والوں میں آئی ایس آئی کے ایک صوبیدار ظفر عباس شاہ بھی شامل ہیں جن کا تعلق پنڈدادن خان سے بتایا جاتا ہے۔

علاقے کے لوگوں کے مطابق چونکہ یہ علاقہ فوج کے زیر کنٹرول ہے اس لیے یہاں پر مشکوک افراد کی نقل و حرکت نہیں ہوسکتی۔

ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹیگیشن گروپ کے اہلکاروں کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکش حملہ آور ابھی بس میں سوار ہی ہوا تھا کہ اُس نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔

ادھر ان دھماکوں کی تحقیقات کے ضمن میں ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں مقامی پولیس، وفاقی تحقیقاتی ادارے، انٹیلیجنس بیورو اور آئی ایس آئی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس ٹیم نے ابتدائی طور پر متاثرہ بس کی لاگ بک بھی حاصل کر لی ہے جبکہ ٹیم کے ارکان بس دھماکے اور آر اے بازار چوک خودکش حملے میں زخمی ہونے والے افراد جن کے حالت خطرے سے باہر ہے، سے مبینہ دہشت گردوں کے حلیے کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ ان کے تصویری خاکے تیار کیے جا سکیں۔

بم دھماکےتصویروں میں
راولپنڈی کینٹ میں خود کش بم دھماکے
خود کش حملےدھماکے، چند سوالات
خود کش حملے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد