BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودکش دھماکے اور سوالات

راولپنڈی دھماکہ
یہ بات کافی تعجب خیز ہے کہ حملہ آور بس کے اندر کیسے داخل ہو گیا
فوجی اہلکار مانیں یا نہ مانیں راولپنڈی میں منگل کی صبح دو زوردار دھماکے بظاہر فوجی حکام کو کوئی پیغام ضرور دینا چاہتے تھے۔ دونوں دھماکے کافی سوچ سمجھ کر اور منظم طریقے سے کیے گئے۔

قاسم مارکیٹ میں بس کو نشانہ بنانے والوں نے کافی ہوم ورک کیا ہوگا۔ انہوں نے اس پر کئی دنوں سے نظر رکھی ہوگی اور اس کا روٹ بھی دیکھا ہوگا۔


حکومت اسے وزارت دفاع کی بس بتاتی ہے تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس خفیہ ادارے کی بس تھی۔

ایک قابل توجہ چیز بس کے قریب ایک ہیلمٹ تھا جو اکثر موٹر سائیکل سوار ہی پہنتے ہیں۔ موقع پر موجود بعض سکیورٹی اہلکاروں کا خیال تھا کہ ممکن ہے خودکش حملہ آور نے خود کو بس سے ٹکرا دیا ہو۔ لیکن اس موقف کوجائے وقوع پر موٹر سائیکل کا نہ ہونا کمزور کرتا ہے۔ اگر اس حملے میں موٹر سائیکل استعمال ہوئی تو اس کا ایک پرزہ بھی وہاں موجود نہیں تھا۔ کیا وہ مکمل طور پر تباہ ہوئی؟

حکومت اسے وزارت دفاع کی بس بتاتی ہے تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خفیہ ادارے کی بس تھی

بس کی حالت سے واضع تھا کہ دھماکہ اس کے اندر ہوا۔ یہ بات کافی تعجب خیز ہے کہ حملہ آور اندر کیسے داخل ہو گیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا کوئی اندر ہی تھا جس نے خود کو اڑایا یا پھر یہ پہلے سے نصب شدہ بم تھا؟

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ بس رکی اور چند لوگ جب اس میں بیٹھنے لگے تو دھماکہ ہوا۔ شاید مبینہ خودکش حملہ آور نے اس وقت بس میں داخل ہو کر دھماکہ کر دیا ہو؟

آر اے بازار کا دھماکہ پہلے سے بھی زیادہ مبہم ہے۔ وہاں تو نہ موٹر سائیکل ہے نہ کوئی گڑھا۔ کوئی اسے موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ قرار دے رہا ہے تو کچھ اسے پیدل شخص کی کارروائی مان رہے ہیں۔ موقع پر موجود اکثر لوگ تاہم صرف اتنا بتا سکتے ہیں کہ دھماکہ بڑا زور دار تھا۔ یہ کیسے ہوا، انہیں معلوم نہیں۔

قاسم مارکیٹ دھماکے کا ہدف تو بھری بس تھی جس میں زیادہ جانی نقصان کا احتمال تھا ہی لیکن اس کے مقابلے میں آر اے بازار والے دھماکے کا مقصد بھی شاید یہی تھا کہ اس سے بھی زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔ اس میں دھماکے خیز مواد کے علاوہ چھرے بھی استعمال کیے گئے۔ بعض تباہ شدہ گاڑیوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان پر کلاشنکوف سے گولیاں برسائی گئی ہوں۔

ان چھروں کی وجہ سے ہی قریبی دکان پر بیٹھے چند تاجر بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔

راولپنڈی دھماکے
تباہ شدہ گاڑیوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان پر کلاشنکوف سے گولی چلائی گئی ہو
یہ دھماکے جیسے بھی کیے گئے دوسرا سوال ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ آخر یہ کس کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ کیا اس کا تعلق قبائلی علاقوں سے جڑتا ہے، لال مسجد سے یا پھر غیریقینی ملکی سیاسی صورتحال سے؟

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پہلے ہی شدت پسند سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ وہاں فوج پہلے ہی دباؤ میں ہے۔مزید دباؤ بڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟

لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی کے فوراً بعد اس کا بظاہر ردعمل تو اسلام آباد میں دو خودکش حملوں کی صورت میں آ چکا تھا۔ اب کافی عرصے کے بعد اس مسئلے پر کیوں مزید حملے کیوں کرے گا؟

اس کے بعد رہ جاتی ہے ملکی سیاسی صورتحال۔ صدر جنرل پرویز مشرف اپنے دوبارہ انتخاب کی بابت کافی تنگ گلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ ہی ایم ایم اے فی الحال نکلنے کا کوئی راستہ دے رہی ہے۔ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کو وجہ بنا کر ایمرجنسی کی راہ تو ہموار نہیں کی جا رہی؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد