خودکش دھماکے اور سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی اہلکار مانیں یا نہ مانیں راولپنڈی میں منگل کی صبح دو زوردار دھماکے بظاہر فوجی حکام کو کوئی پیغام ضرور دینا چاہتے تھے۔ دونوں دھماکے کافی سوچ سمجھ کر اور منظم طریقے سے کیے گئے۔ قاسم مارکیٹ میں بس کو نشانہ بنانے والوں نے کافی ہوم ورک کیا ہوگا۔ انہوں نے اس پر کئی دنوں سے نظر رکھی ہوگی اور اس کا روٹ بھی دیکھا ہوگا۔ حکومت اسے وزارت دفاع کی بس بتاتی ہے تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس خفیہ ادارے کی بس تھی۔ ایک قابل توجہ چیز بس کے قریب ایک ہیلمٹ تھا جو اکثر موٹر سائیکل سوار ہی پہنتے ہیں۔ موقع پر موجود بعض سکیورٹی اہلکاروں کا خیال تھا کہ ممکن ہے خودکش حملہ آور نے خود کو بس سے ٹکرا دیا ہو۔ لیکن اس موقف کوجائے وقوع پر موٹر سائیکل کا نہ ہونا کمزور کرتا ہے۔ اگر اس حملے میں موٹر سائیکل استعمال ہوئی تو اس کا ایک پرزہ بھی وہاں موجود نہیں تھا۔ کیا وہ مکمل طور پر تباہ ہوئی؟
بس کی حالت سے واضع تھا کہ دھماکہ اس کے اندر ہوا۔ یہ بات کافی تعجب خیز ہے کہ حملہ آور اندر کیسے داخل ہو گیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا کوئی اندر ہی تھا جس نے خود کو اڑایا یا پھر یہ پہلے سے نصب شدہ بم تھا؟ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ بس رکی اور چند لوگ جب اس میں بیٹھنے لگے تو دھماکہ ہوا۔ شاید مبینہ خودکش حملہ آور نے اس وقت بس میں داخل ہو کر دھماکہ کر دیا ہو؟ آر اے بازار کا دھماکہ پہلے سے بھی زیادہ مبہم ہے۔ وہاں تو نہ موٹر سائیکل ہے نہ کوئی گڑھا۔ کوئی اسے موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ قرار دے رہا ہے تو کچھ اسے پیدل شخص کی کارروائی مان رہے ہیں۔ موقع پر موجود اکثر لوگ تاہم صرف اتنا بتا سکتے ہیں کہ دھماکہ بڑا زور دار تھا۔ یہ کیسے ہوا، انہیں معلوم نہیں۔ قاسم مارکیٹ دھماکے کا ہدف تو بھری بس تھی جس میں زیادہ جانی نقصان کا احتمال تھا ہی لیکن اس کے مقابلے میں آر اے بازار والے دھماکے کا مقصد بھی شاید یہی تھا کہ اس سے بھی زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔ اس میں دھماکے خیز مواد کے علاوہ چھرے بھی استعمال کیے گئے۔ بعض تباہ شدہ گاڑیوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان پر کلاشنکوف سے گولیاں برسائی گئی ہوں۔ ان چھروں کی وجہ سے ہی قریبی دکان پر بیٹھے چند تاجر بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پہلے ہی شدت پسند سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ وہاں فوج پہلے ہی دباؤ میں ہے۔مزید دباؤ بڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی کے فوراً بعد اس کا بظاہر ردعمل تو اسلام آباد میں دو خودکش حملوں کی صورت میں آ چکا تھا۔ اب کافی عرصے کے بعد اس مسئلے پر کیوں مزید حملے کیوں کرے گا؟ اس کے بعد رہ جاتی ہے ملکی سیاسی صورتحال۔ صدر جنرل پرویز مشرف اپنے دوبارہ انتخاب کی بابت کافی تنگ گلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ ہی ایم ایم اے فی الحال نکلنے کا کوئی راستہ دے رہی ہے۔ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کو وجہ بنا کر ایمرجنسی کی راہ تو ہموار نہیں کی جا رہی؟ | اسی بارے میں راولپنڈی کینٹ کے علاقے میں خودکش حملے، 24 ہلاک، 66 زخمی04 September, 2007 | پاکستان راولپنڈی دھماکے: آپ نے کیا دیکھا04 September, 2007 | Poll دھماکے:’اب انتخابی مہم مشکل‘04 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||