BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 06:41 GMT 11:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راولپنڈی دھماکے: آپ نے کیا دیکھا
راولپنڈی کینٹ کے علاقوں قاسم مارکیٹ اور آر اے بازار میں منگل کی صبح پندرہ منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں چوبیس افراد ہلاک اور چھیاسٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

اگر آپ اس علاقے میں یا جائے وقوع کے قریب تھے تو ہمیں لکھ بھیجیں۔اس کے لیے آپ صفحہ کی بائیں جانب دیا گیا ای میل فارم استعمال کر سکتے ہیں۔


فیصل، سی این جی سٹیشن سیکورٹی گارڈ

صبح ساڑھ سات بجے گاڑی آئی اور کھڑی ہوئی تو اُس میں بم تھا۔ دھماکا ہوا اور بس تباہ ہو گئی ہے۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ میں جس سی این جی سٹیشن پر کام کرتا ہوں یہاں بھی نقصان ہوا۔

بہت زور دھماکا تھا یہاں بجلی کی لائنیں اور شییشے بھی ٹوٹے ہیں۔

یہ گاڑی روزانہ آتی ہے اور لوگ اس پر بیٹھتے ہیں۔ یہاں سے چار پانچ لوگ بیٹھتے ہیں۔ جیسے ہی گاڑی یہاں آ کر رکی اس میں دھماکا ہوا اور گاڑی کے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔

مرنے والے تو بیس پچیس تھے اور تیس پینتس زخمی بھی ہوئے ہیں اور ہم زخمی کو گاڑیوں میں بیٹھا کر بھیجتے رہے۔

شیراز احمد

تھانہ آر اے بازار سے چند قدم اور جی ایچ کیوسے کچھ ہی فاصلے پرہائی سیکیورٹی علاقے میں جب میں بم دھماکے والی جگہ پر پہنچا تو وہاں پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو چکی تھی۔

دھماکے والی جگہ پر ایک موٹر سائیکل پڑی تھی جس کا نمبر آرآئی ایس395تھا اور وہ مکمل طور پر جل چکی تھی جبکہ اس کے قریب چھ گاڑیاں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ایک گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشوں میں سے کسی فوجی اہلکار کی ایک ٹوپی پڑی نظر آرہی تھی۔

ایک سائیکل بھی جائے وقوعہ پر پڑی تھی جو کسی اخبار فروش کی تھی اور اس کے پاس اخبارات بکھرے ہوئےتھے۔


مقامی افراد کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس میں فوجی اہلکار اور دو دکانداروں سمیت چھ افرادہلاک ہوئے ہیں۔

دھماکے سے قریبی گھروں کے شیشے بھی بھی ٹوٹ گئے اوردھماکے کی جگہ پر خون اور گوشت کے لوتھڑے پڑے تھے۔


عمران خان، قریبی رہائشی

میں قاسم مارکیٹ کے قریب ہی رہتا ہوں، صبح سات بج کر کوئی بیس منٹ پر یہ دھماکا ہوا۔ میں اور میرے والد صاحب گھر کے اندر بیٹھے ہوئے تھے کہ شعلے بڑھکے اور شیشے ٹوٹ کر اندر آئے۔

بس کے ٹکڑے بھی دور دور جاکر گرے، اور بس کے ٹکڑے بجلی کی تاروں پر جا کر بھی لگے جس سے تاریں ٹوٹ گئیں۔

جب میں گھر سے باہر نکلا تو سات آٹھ لاشیں ہمارے سامنے پڑی ہوئی تھیں۔ کچھ لوگوں کی لاشیں جلی ہوئی تھیں۔ میرا گھر کوئی دو سو میٹر دور ہے اُس جگہ سے جہاں دھماکا ہوا لیکن میری گاڑی پر بھی انسانی جسم کا ٹکڑا آ کر گرا۔

میں نے پولیس کو فون کیا کہ وہ جلدی جلدی گاڑی اور ایمبولینس بھیجیں۔

مجھے تو یہ ہی لگتا ہے دھماکا بس کے اندر ہوا ہے کیونکہ بس اندر سے باہر پھٹی ہوئی تھی۔

ایک آدمی اپنے بچوں کو سکول لے کر جا رہا تھا اور کی گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا اور اُس کے بچے زخمی ہوگئے اور وہ اپنی گاڑی یہیں چھوڑ کر اپنے بچوں کو ہسپتال لے گیا۔

صبح صبح رش کم تھا، شروع میں جب دھماکا ہوا تو میں نے باہر نکل کر جب دیکھا تو کچھ لوگ زخمی حالت میں بس کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔


محمد الیاس، ٹیکسی ڈرائیور

ٹیکسی چلاتا ہوں جی، بچوں کو صبح سکول چھوڑے جا رہا تھا۔ بہت شدید دھماکا تھا اور بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

میری گاڑی میں جو تین بچے تھے وہ زخمی ہو گئے اور میں نے اُن کو ایدھی کی گاڑی پر ہسپتال بھیجا۔

گاڑی میں بہت سے سوراخ ہوئے اور یہ سب بم کے ٹکڑوں سے ہوا، شکر ہے کہ گاڑی کی ٹینکی بچ گئی ورنہ آگ لگ جاتی۔

سکول کی بھی بہت سی بچیاں زخمی ہوئی تھیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد