اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کے روز آبپارہ مارکیٹ میں ہونے والے خوکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چودہ ہوگئی ہے۔ سنیچر کے روز پولی کلینک میں ایک اور زخمی پولیس اہلکار محمد رضوان بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جبکہ اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے چار افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ اس طرح اس خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے تعداد آٹھ ہوگئی ہے جبکہ سات پولیس اہلکار زخمی ہیں۔ ادھر مبینہ خودکش حملہ آور کا ڈی این اے ٹیسٹ لیکر لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ہیں۔ اس مبینہ دہشت گرد کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پمز ہسپتال کے ڈاکٹر فرخ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا چہرہ قابل شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مبینہ دہشت گرد کی عمر بیس اور بائیس سال کے دوران ہے اور وہ کلین شیو ہے جبکہ وہ حلیے سے پاکستانی دکھائی دیتا ہے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس شاہد ندیم بلوچ کے مطابق بم ڈسپوزل سکواڈ کہ عملے نے ابھی تک اس بارے میں رپورٹ پیش نہیں کی کہ جمعہ کے روز ہونے والے خودکش حملے میں کتنا بارود استعمال ہوا تھا۔ آبپارہ مارکیٹ کے دوکانداروں نے اس خودکش حملے کے سنیچر کےروز اپنی دوکانیں بند رکھیں اور اس مارکیٹ کے دوکاندار ضلعی انتظامیہ سے اس حملے کو وجہ سے ہونے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ادھر پولیس نے جمعہ کے روز لال مسجد میں ہنگامہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے 65 افراد کو سنیچر کے ورز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے ملزمان کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ | اسی بارے میں پاکستان: چھ ماہ میں انیس خودکش حملے18 July, 2007 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک27 July, 2007 | پاکستان قبائلی علاقے: خود کش حملوں کی جڑ27 July, 2007 | پاکستان ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان لال مسجد غیر معینہ عرصے کے لیے بند 27 July, 2007 | پاکستان قبائلی علاقوں سے باہر قبائلی فکر مند26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||