اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی مصروف ترین بازار آبپارہ مارکیٹ میں واقع ایک ہوٹل پر خود کش بم حملے میں آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم چودہ افراد ہلاک اور اڑتالیس زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ زخمی ہونے والوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کے سیکٹری داخلہ سید کمال شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں خودکش حملوں کی جڑیں قبائلی علاقے میں ہیں۔ اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں زخمی سپاہیوں کی عیادت کے لیئے آئے ہوئے سید کمال شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو آبپارہ کے علاقے میں ایک ہوٹل کے باہر ہوئے دھماکہ بھی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بظاہر خودکش حملہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کرنے والے اہلکاروں نے انہیں بتایا ہے کہ دھماکے کے مقام پر کوئی گڑھا نہیں بنا جس سے خودکش حملے کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔ ’تکنیکی ماہرین کی ٹیم کو کسی فیصلے پر پہنچنے میں ابھی تھوڑا مزید وقت لگے گا۔ لیکن زیادہ شواہد خودکش کے ہی ہیں ابھی۔’ ایک سوال کے جواب میں کہ خودکش حلموں کو روکنے کے لیئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کچھ زیادہ موثر دکھائی نہیں دیتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ ’جگہ جگہ سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، چوکیاں قائم کی گئی ہیں، تلاشیاں لی جا رہی ہیں، جہاں اس قسم کے لوگ آکر ٹھہر سکتے ہیں ان کو دیکھا جا رہا ہے۔ میں اگر ساری تفصیل بتا دوں گا تو کرنے والا ہوشیار ہو جائے گا۔’ دریافت کیا کہ آیا خودکش حملہ آروں کی جڑ تک پہنچ پائے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ جڑ یہاں ہے نہیں۔ ’جڑ فاٹا میں ہے۔‘ اسلام آباد پولی کلینک کے ڈیوٹی افسر راجہ الیاس کے مطابق ابھی تک ہسپتال میں نو لاشیں لائی جا چکی ہیں جن میں سے چار پولیس اہلکار اور چھ عام شہری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چار پولیس اہلکاروں کی لاشیں اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں لائی گئی ہیں۔ ہوٹل کے مالک اکرم غوری کے مطابق یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے خود کو ہوٹل کے باہر ایک زور دار دھماکے سے اڑا دیا۔ ہوٹل کے مالک کے مطابق دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ خود کش حملہ آور کی لاش کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک پولیس کانسٹیبل آصف جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پنجاب کانسٹیبلری کے چند ساتھیوں کے ساتھ ہوٹل کے باہر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ایک بائیس تئیس سالہ نوجوان وہاں آیا۔ کانسٹیبل کے مطابق ہوٹل کے داخلی دروازے کے قریب جا کر نوجوان نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے پولی کلینک ہسپتال لایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس لال مسجد پر طلباء کا قبضہ چھڑانے میں مصروف تھی۔ | اسی بارے میں ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کھلنے پر ہنگامہ آرائی27 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: رنگ بدلا، ڈھنگ وہی 27 July, 2007 | پاکستان سرحد: چھ اہلکاروں سمیت نو زخمی26 July, 2007 | پاکستان سوات کار بم دھماکہ، پانچ ہلاک12 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: طاقتور دھماکوں، فائرنگ کی آوازیں04 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||