BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 July, 2007, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد کھلنے پر ہنگامہ آرائی

مولانا عبدالعزیز ریمانڈ پر سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس میں ہیں جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے
لال مسجد میں تین ہفتے قبل فوجی آپریشن کے بعد پہلی مرتبہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے موقع پر مشتعل طلباء اور پولیس میں تقریباً تین گھنٹے تک جھڑپیں ہوئیں۔

طلباء نے لال مسجد کو کافی دیر تک اپنے قبضے میں رکھا۔ تاہم شام کو انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد طلباء لال مسجد چھوڑ کر باہر چلے گئے۔

اس سے قبل مشتعل طلباء کئی گھنٹوں تک مطالبہ کرتے رہے کہ لال مسجد کے ’اصل‘ خطیب مولانا عبدالعزیز کو جمعہ کے خطبے کے لیے واپس لایا جائے۔


اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار ملک ممتاز نے بی بی سی کو بتایا کہ شام پانچ بجے تک کئی طلبا مسجد میں موجود تھے۔تاہم انتظامیہ اور طلباء کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں صورتِ حال شام کے وقت پر امن ہوگئی اور طلباء نے لال مسجد کا کنٹرول پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے آٹھ مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کی جانب سے مشتعل طلباء کے خلاف کارروائی بظاہر ارادی طور پر تاخیر سے شروع ہوئی جس میں طلباء نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ اس سے قبل طلباء نے حکومت کے نامزد خطیب مولانا محمد اشفاق کو نماز پڑھانے سے روکنے کے بعد باہر نکال دیا تھا۔

طلباء نے ایم ایم کے کچھ رہنماؤں کو جن میں لیاقت بلوچ، میاں اسلم اور سراج الحق شامل تھے، مسجد میں داخل نہیں ہونے دیا اور کہا کہ ’آپ لوگ لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔‘

نماز سے قبل طلبا کے طرف سے کافی دیر تک حکومت کے خلاف نعرے بازی ہوتی رہی اور جمعہ کی نماز ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد جامعہ فریدیہ کے مولانا عتیق احمد نےنماز کی امامت کی۔

لال مسجد کا رنگ بدل دیا گیا تھا
فوجی آپریشن کے بعد لال مسجد کی صفائی اور آرائش کے دوران اس کی دیواروں اور میناروں پر سفیدی مائل رنگ کر دیا گیا تھا اور مسجد کے باہر مرکزی جامعہ مسجد جی سِکس کا بورڈ لگا دیا گیا تھا۔

فوجی آپریشن کے بعد لال مسجد کی صفائی اور آرائش کے دوران اس کی دیواروں اور میناروں پر سفیدی مائل رنگ کر دیا گیا تھا اور مسجد کے باہر مرکزی جامعہ مسجد جی سِکس کا بورڈ لگا دیا گیا تھا۔

نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے قبل مشتعل طلبا مسجد کی چھت پر چڑھ گئے، دیواروں اور میناروں پر پھر سے سرخ رنگ کرنا شروع کردیا اور مسجد کے باہر کے بیس فیصد حصہ کا رنگ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے مسجد کی دیواروں پر ’غازی تیرے خون سے انقلاب آئے گا’ سمیت کئی نعرے لکھ دیے۔دیواروں پر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی نعرے لکھے گئے اور ذرائع ابلاغ کے ایک حصے میں طلبا کے اسلحہ لانے سے متعلق مبینہ خبروں پر ایک کیمرہ مین کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

مولانا عتیق کی جانب سے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد طلبا نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور مسجد سے باہر نکل آئے جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے پوزیشنیں سنبھال لیں اور طلباء کو منشتر ہونے کے لیے دس منٹ کا وقت دیا۔

ملٹری آپریشن کے بعد پہلی بار
جمعہ کو جب لال مسجد میں نماز کی اجازت دی گئی تو مسجد کے قریب واقع منہدم شدہ جامعہ حفصہ کے مقام پر بہت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ درجنوں طلباء و طالبات وہاں جاکر زارو قطار رو رہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔

اسی دوران طلباء نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی جس کے کچھ شیل مسجد کے اندر بھی گرے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ طلبا کو منشتر ہونے کے لیے دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا لیکن انہوں نے منتشر ہونے کی بجائے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔

اس سے قبل لال مسجد کے قریب واقع منہدم شدہ جامعہ حفصہ کے مقام پر بہت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ درجنوں طلباء و طالبات وہاں جاکر زارو قطار رو رہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔

یادرہے کہ جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں ہونے والے ملٹری آپریشن کے بعد لال مسجد کو بند کر دیا گیا تھا۔ ملٹری آپریشن میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ایم ایم اے کے رہنما باہر
طلباء نے ایم ایم کے کچھ رہنماؤں کو جن میں لیاقت بلوچ، میاں اسلم اور سراج الحق شامل تھے، مسجد میں داخل نہیں ہونے دیا اور کہا کہ ’آپ لوگ لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔‘

دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے ( سی ڈی اے) اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے حال ہی میں مسجد کی تزئین و آرائش کا کام ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا ہے۔ مسجد کی مرمت کے بعد اس کے گنبد کا رنگ بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس کی بیرونی دیوار کی جگہ آہنی جنگلا لگا دیا گیا ہے۔

مسجد کی عمارت کو جولائی کے پہلے ہفتے میں ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران سخت نقصان پہنچا تھا۔ اس آپریشن کے بعد مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کی عمارت کو مکمل طور پر گرا دیا گیا تھا۔

جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں ہونے والے ملٹری آپریشن کے بعد لال مسجد کو بند کر دیا گیا تھا۔ ملٹری آپریشن میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اسلام آباد کی کوورڈ مارکیٹ کی مسجد بلال کے خطیب مولانا اشفاق کو لال مسجد کا نیا خطیب مقرر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد