سات مرلے جائز، اٹھارہ کنال ناجائز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے عملے نے پیر کے روز جامعہ حفصہ میں غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی اٹھارہ کنال زمین پر تعمیر کیےگئے مزید سولہ کمرے منہدم کر دیے ہیں۔ سی ڈی اے کا عملہ گزشتہ دو دنوں میں جامعہ حفصہ کی غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی زمین پر سے تیس کمروں کو منہدم کر چکا ہے۔ اس آپریشن کے انچارج ڈپٹی ڈاریکٹر انفورسمنٹ سی ڈی اے کیپٹن ریٹائرڈ محمد فیض نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک جامعہ حفصہ کا بیس فیصد حصے کو جو کہ ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے منہدم کردیا گیا ہے جبکہ باقی حصے کو گرانے میں مزید تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ میں مزید ایک سو سے زائد کمرے موجود ہیں جو ناجائز طور پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ انیس سو اسی میں اس وقت کی حکومت نے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے لال مسجد کی انتطامیہ کو سات مرلے الاٹ کیے تھے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفورسمنٹ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے سات مرلے الاٹ ہوئے تھے لیکن لال مسجد کی انتظامیہ نے اٹھارہ کنال پر تجاوزات تعمیر کر لی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک پلاٹ نیشنل بک فاؤنڈیشن کو الاٹ کیا گیا تھا جبکہ دوسرے پلاٹ پر شادی ہال تعمیر ہونا تھا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ اگر جامعہ حفصہ کا جائز حصہ گرایا گیا تو سی ڈی اے کے متعلقہ حکام سے کہا جائے گا کہ وہ اس کو دوبارہ تعمیر کریں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد، جامعہ حفصہ اور اس کے گردونواح میں ابھی تک کرفیو عائد کر رکھا ہے اور کسی کو بھی لال مسجد کے قریب جانےکی اجازت نہیں۔ سی ڈی اے کی انتظامیہ نے لال مسجد کی تعمیرومرمت کے لیے ایک کڑور تیس لاکھ روپے مختص کیے ہیں اور اس ضمن میں سی ڈی اے کے ممبر انجینئرنگ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ | اسی بارے میں ہتھیار ڈالنے والے مزید طلباء کی رہائی10 July, 2007 | پاکستان ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد میں مظاہرے اور دعائیں11 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: لاپتہ طلباء، والدین کی مشکلات14 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||