BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 July, 2007, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہتھیار ڈالنے والے مزید طلباء کی رہائی

 طلبا و طالبات کے رشتہ دار
طلبا و طالبات کے رشتہ دار انہیں لینے کے لیے موجود تھے
لال مسجد پر حتمی آپریشن سے قبل ہتھیار ڈالنے والے طلباء میں سے مزید ایک سو کو منگل کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔

ان طلباء کو منگل کو پولیس کی گاڑیوں میں سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے خصوصی طور پر قائم سنٹر میں ایک مقامی فلاحی ادارے کے اہلکاروں کے حوالے کیا گیا۔

خبیب فاؤنڈیشن کے ترجمان واصف خان کے مطابق آج اُن کے حوالے کیے جانے والوں میں بائیس سے ستر سال کے افراد شامل تھے جن میں سے بیشتر کو اُن کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا۔اس سے پہلے پیر کی رات کو پولیس نے اٹھارہ افراد کو رہا کرتے ہوئے سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں لگائےگئے کیمپ کی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا تھا۔

واصف خان کے مطابق اب تک انتظامیہ کی جانب سے کُل دو سو پچاس افراد کو رہا کیا گیا ہے۔ ان افراد نے لال مسجد پر فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے اپنے آپ کو انتظامیہ کے حوالے کر دیا تھا۔

رہا ہونے والے چودہ سالہ سعید اشرف ، جن کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلع سوات سے ہے ، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ جُمعہ کوگرفتاری کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگوں نے اُن کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا البتہ حکومتی دعوے کے برعکس اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے لال مسجد کے اندر تھے۔ سعید اشرف نے کہا کہ اُن کو یرغمال نہیں بنایا گیا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے اندر تھے۔

اتوار کے روز پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا تھا کہ لال مسجد انتظامیہ نے طلبا ء و طالبات کی بڑی تعداد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

متعدد ایسے افراد نے، جن کے رشتہ دار لال مسجد میں منگل کے دن فوجی آپریشن کے دوران موجود تھے، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے بچے اور بچیاں اپنی مرضی سے اپنے اساتذہ کے ساتھ اندر رُکے ہوئے تھے۔

صوبہ سرحد کے ضلع بٹگرام سے تعلق رکھنے والے ہدایت اُللہ نے کہا کہ اُن کا بیس سالہ بھائی اپنی مرضی سے اندر رکا ہوا تھا۔ لڑائی کی وجہ سے اُن کی لال مسجد تک رسائی نہ تھی جس کی وجہ سے ہدایت اللہ کو اپنے بھائی کے بارے میں منگل کے دن دیر تک کوئی اطلاع نہ تھی۔

اسی طرح سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا ، جو کہ اپنی چودہ سالہ بیٹی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے آئی تھیں ، کا کہنا تھا کہ اُن کی بیٹی عاصمہ اپنی مرضی سے لال مسجد میں رُکی ہوئی تھیں۔

ادھر پاکستان فوج کے ادارہ برائے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے منگل کی رات ساڑھے نو بجے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ستائیس طالبات سمیت کُل ستاسی افراد کو لال مسجد پر فوجی آپریشن کے دوران زندہ برآمد کیا گیا ہے۔

آپریشن سائلنسڈیل کیوں نہ ہوئی؟
لال مسجد ڈیل کیسے اور کیوں ناکام ہوئی؟
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
’محصور‘ بچوں کے رشتہ دار’گولی کی آواز دل پر‘
مسجد میں’محصور‘ بچوں کے رشتہ داروں کے تاثرات
اسی بارے میں
8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے
10 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد