BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 July, 2007, 15:54 GMT 20:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوئی راستہ نہیں بچا تھا‘

بے نظیر بھٹو
گزشتہ برسوں میں انتہا پسندوں کو بہت ڈھیل دی گئی ہے: بے نظیر بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ لال مسجد آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا کیونکہ حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بہت کوشش کی کہ مسئلہ مذکرات سے حل ہو جائے لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ غازی عبدالرشید پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ان کے پاس خود کش بمبار موجود ہیں اور اگر حکومت ان کے مطالبات نہیں مانتی تو وہ ان بمباروں کو استعمال کریں گے۔


بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے سارے شہر کو خطرہ تھا۔ اگرچہ آپریشن کے دوران ہونے والی ہلاکتیں بدقسمتی کی بات ہے لیکن اس سے بچاؤ کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا حکومت کو مذاکرات کو مذید وقت نہیں دینا چاہئے تھا، بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ایسا کرنے سے مذید خرابی ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کرفیو لگا ہوا تھا جس سے عام شہری متاثر ہو رہے تھے۔ لال مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے میں چھپے ہوئے عسکریت پسند انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ’ یہ کہنا کہ سیز فائر یا فرار کا راستہ دینے سے مسئلہ حل ہو سکتا تھا غلط ہے کیونکہ ایسا کرنے سے حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب ہو جاتے۔‘

آپریشن سائلنس کے ممکنہ ردعل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ مدارس کی جانب سے شدید رد عمل ہو سکتا ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انتہا پسندوں کو بہت ڈھیل دی گئی ہے جس سے انتہا پسندوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں کئی ایسے مدارس ہیں جو دراصل غیر رسمی فوجی ہیڈکوارٹر بن چکے ہیں۔ ’ہماری ریاست کو اپنے عوام کو تحفظ دینا ہوگا۔‘

بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستانی فوج کے اہلکار قبائلی علاقوں میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شہید ہو رہے تھے۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندوں نے اسلام آباد میں بھی پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنا شروع کر دیا تھا۔

ان کے بقول لال مسجد آپریشن کے ذریعے حکومت نے ایک لکیر لگائی ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو اس سے آگے نہیں آنے دے گی۔’ تاہم ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے، کہیں حکومت ان کو دوبارہ ڈھیل تو نہیں دے گی؟‘

چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
لال مسجد آپریشن کے زخمیزخمیوں میں اضافہ
لال مسجد آپریشن کے زخمی: تصاویر میں
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد