BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوبہ سرحد میں مظاہرے اور دعائیں

فائل فوٹو
پشاور میں احتجاجی مظاہرہ متحدہ مجلس عمل کے زیرِاہتمام ہوا۔ (فائل فوٹو)
صوبہ سرحد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر ہونے والے فوجی آپریشن اور مولانا عبد الرشید غازی کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع بٹاگرام میں تمام بین الاقوامی امدادی اداروں نے اپنے اپنے دفاتر بند کرکے عملہ اسلام آباد منتقل کردیا ہے۔

پشاور میں متحدہ مجلس عمل کے زیرِاہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ نمک منڈی چوک میں منعقد ہوا جس میں تین چارسو کے قریب کارکنوں نے شرکت کی۔

مظاہرے کی قیادت ایم ایم اے کے ضلعی رہنماؤں نے کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ’امریکہ کا جو یار ہے وہ دین کا غدار ہے‘، ’جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن امریکہ کی خوشنودی پر کیا گیا‘ اور ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹواور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے فوجی آپریشن کی حمایت کرنے پر ان کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

مظاہرین سے خطاب میں صوبائی وزراء امان اللہ حقانی، کاشف اعظم اور ایم ایم اے کے صوبائی جنرل سیکرٹری شبیر احمد خان نے کہا کہ عبد الرشید غازی اور حکومت کے مابین ایک اعلامیہ پر اتفاق ہوچکا تھا لیکن یہ اعلامیہ جب ایوانِ صدر پہنچا تو وہاں صدر جنرل پرویز مشرف نے اسے نامنظور کیا جس کے بعد لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کارروائی کی گئی۔

مقررین نے ذرائع ابلاغ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ فوجی کارروائی سے اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن اخبارات میں یہ تعداد بہت کم بتائی جارہی ہے۔

مظاہرے کے اختتام پر مفتی عبد الشکور نے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کےلیے دعائے مغفرت کی۔

ادھر ضلع بٹگرام میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز دو بین الااقوامی امدادی اداروں کے دفاتر پر حملوں کے بعد وہاں قائم تمام غیرسرکاری اداروں کے دفاتر بند ہوگئے ہیں جبکہ ان کا عملہ اسلام آباد اور دیگر محفوظ علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

بٹگرام کے ضلعی رابطہ افسر امین الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور تمام اہم علاقوں میں فرنٹیئر کور کے تازہ دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کو بٹگرام میں مشتعل ہجوم نے کیئر انٹرنشینل اور فرینچ ریڈ کراس کے دفاتر پر ہلہ بول کر انہیں اگ لگا دی تھی جبکہ کچھ اداروں کے دفاتر پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔

بٹگرام شہر میں پچاس کے قریب بین الاقوامی امدادی اداروں کے دفاتر قائم ہیں جو زلزلہ زدہ علاقوں میں بحالی کے کام میں مصروف ہیں۔

دریں اثناء بٹگرام شہر میں بھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں فوجی آپریشن کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس کی قیادت جماعت اسلامی کے ضلعی امیر نے کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد