لال مسجد: رنگ بدلا، ڈھنگ وہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین ہفتے تک بند رہنے کے بعد لال مسجد کو عوام کے لیے کھولا گیا تو اس کی عمارت تو جوں کی توں ہے لیکن اس کی شناخت بدل دی گئی ہے۔ ایک نئے بورڈ پر اس کا نام اب جامع مسجد جی سکس درج ہے اور اس کے سرخ رنگ کے پینٹ کو ہلکے پیلے رنگ سے بدل دیا گیا ہے۔ جمعے کی نماز کے لیے جب مسجد کو کھولا گیا تو اس کے ارد گرد کی سڑکوں کو حسب سابق ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے لوگ پیدل چل کر اور سخت سکیورٹی سے گزر کر مسجد تک پہنچ سکے۔ ان میں نمازیوں کے علاوہ جماعت اسلامی کے سینکڑوں حامی تھے جو مسجد کے باہر جمع ہو کر جنرل مشرف اور ان کی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مدارس کے طلباء جن میں سے کچھ کے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی تھے، مسجد کی دیواروں پر سرخ پینٹ کرتے ہوئے اور دیواروں پر ’لال مسجد‘ اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے لکھتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔ بہت سے لوگ نماز اور احتجاج سے بے نیاز صرف اس ملبے کو دیکھنے کے لیے آئے تھے جو کبھی بچوں کی لائبریری اور جامعہ حفصہ کی عمارتیں ہوا کرتی تھیں۔ ایک موقعے پر احتجاجی جلوس بھی اس ملبے تک آیا اور یہاں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اس سارے معاملے میں جمعہ کی نماز وقت پر ادا نہ کی جا سکی۔ کافی دیر سے تقریباً تین بجے کے قریب جامعہ فریدیہ کے ایک طالبعلم کی امامت میں نماز ادا کی گئی۔ مولانا عبدالعزیز کی جگہ، جو اس وقت حراست میں ہیں، مولانا اشفاق کو مسجد کا خطیب مقرر کیا گیا تھا لیکن ان کی تقریر کے دوران ہی مسجد کے باہر اتنی شدید نعرے بازی ہوئی کہ مولانا اشفاق پولیس کی حفاظت میں وہاں سے رخصت ہو گئے۔ مجمعے کی جانب سے بار بار یہ چیلنج کیا گیا کہ وہ مولانا اشفاق کو امامت نہیں کرنے دیں گے۔ اس کے بعد سے مسجد کا لاؤڈ سپیکر احتجاج کرنے والوں کے ہاتھ میں آ گیا اور اس سے مسلسل مشرف اور حکومت مخالف نعرے بازی ہو رہی تھی۔ احتجاج کرنے والوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر مولانا عبدالعزیز کو فوراً رہا نہ کیا گیا تو وہ اپنا احتجاج شہر کی سڑکوں پر لے جائیں گے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جن میں لوگوں کی جامہ تلاشی کے علاوہ سکینرز کا استعمال اور اسلام آباد پولیس کی مدد کے لیے بلائے گئے پنجاب پولیس کے دستے بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد میں مظاہرے اور دعائیں11 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: لاپتہ طلباء، والدین کی مشکلات14 July, 2007 | پاکستان سات مرلے جائز، اٹھارہ کنال ناجائز24 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: تفصیلی رپورٹ طلب26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||