BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد: رنگ بدلا، ڈھنگ وہی

احتجاجی جلوس کے شرکاء نےہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی
تین ہفتے تک بند رہنے کے بعد لال مسجد کو عوام کے لیے کھولا گیا تو اس کی عمارت تو جوں کی توں ہے لیکن اس کی شناخت بدل دی گئی ہے۔ ایک نئے بورڈ پر اس کا نام اب جامع مسجد جی سکس درج ہے اور اس کے سرخ رنگ کے پینٹ کو ہلکے پیلے رنگ سے بدل دیا گیا ہے۔


جمعے کی نماز کے لیے جب مسجد کو کھولا گیا تو اس کے ارد گرد کی سڑکوں کو حسب سابق ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے لوگ پیدل چل کر اور سخت سکیورٹی سے گزر کر مسجد تک پہنچ سکے۔

ان میں نمازیوں کے علاوہ جماعت اسلامی کے سینکڑوں حامی تھے جو مسجد کے باہر جمع ہو کر جنرل مشرف اور ان کی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔

اس کے علاوہ مدارس کے طلباء جن میں سے کچھ کے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی تھے، مسجد کی دیواروں پر سرخ پینٹ کرتے ہوئے اور دیواروں پر ’لال مسجد‘ اور جنرل مشرف کے خلاف نعرے لکھتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔

بہت سے لوگ نماز اور احتجاج سے بے نیاز صرف اس ملبے کو دیکھنے کے لیے آئے تھے جو کبھی بچوں کی لائبریری اور جامعہ حفصہ کی عمارتیں ہوا کرتی تھیں۔ ایک موقعے پر احتجاجی جلوس بھی اس ملبے تک آیا اور یہاں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی۔

اس سارے معاملے میں جمعہ کی نماز وقت پر ادا نہ کی جا سکی۔ کافی دیر سے تقریباً تین بجے کے قریب جامعہ فریدیہ کے ایک طالبعلم کی امامت میں نماز ادا کی گئی۔

مولانا عبدالعزیز کی جگہ، جو اس وقت حراست میں ہیں، مولانا اشفاق کو مسجد کا خطیب مقرر کیا گیا تھا لیکن ان کی تقریر کے دوران ہی مسجد کے باہر اتنی شدید نعرے بازی ہوئی کہ مولانا اشفاق پولیس کی حفاظت میں وہاں سے رخصت ہو گئے۔ مجمعے کی جانب سے بار بار یہ چیلنج کیا گیا کہ وہ مولانا اشفاق کو امامت نہیں کرنے دیں گے۔

اس کے بعد سے مسجد کا لاؤڈ سپیکر احتجاج کرنے والوں کے ہاتھ میں آ گیا اور اس سے مسلسل مشرف اور حکومت مخالف نعرے بازی ہو رہی تھی۔

احتجاج کرنے والوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر مولانا عبدالعزیز کو فوراً رہا نہ کیا گیا تو وہ اپنا احتجاج شہر کی سڑکوں پر لے جائیں گے۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جن میں لوگوں کی جامہ تلاشی کے علاوہ سکینرز کا استعمال اور اسلام آباد پولیس کی مدد کے لیے بلائے گئے پنجاب پولیس کے دستے بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد