BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 July, 2007, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: چھ اہلکاروں سمیت نو زخمی

حملے کا نشانہ بننے والی پولیس کی گاڑی
قائم مقام ضلعی رابطہ افسر کا کہنا تھا کہ دونوں واقعات میں پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے
صوبہ سرحد کے ضلع لوئر دیر میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی گاڑیوں پر ریموٹ کنٹرول بم حملوں کے دو مختلف واقعات میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں تین قیدی بھی شامل ہیں۔

لوئر دیر کے قائم مقام ضلعی رابطہ افسر محمد الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعات جمعرات کی دوپہر تیمرگرہ سے چار کلومیٹر مشرق میں پیش آئے۔

ان کے مطابق پولیس کی ایک وین میں کچھ قیدیوں کو دیر بالا سے تیمرگرہ لایا جارہا تھا کہ عشڑے گٹ کے مقام پر سڑک پر پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے گاڑی میں سوار چار پولیس اہلکار اور تین قیدی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں اے ایس ائی نصراللہ بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بیس منٹ بعد اسی مقام کے قریب ایک اور پولیس گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس سے گاڑی میں سوار دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ڈی ایس پی انویسٹی گیشن بھی شامل ہیں جو پہلے واقعہ کی تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ کی طرف جارہے تھے۔ زخمیوں کو تیمرگرہ ہپستال منتقل کردیا گیا ہے۔

پہلے واقعہ کے بیس منٹ بعد ایک اور پولیس گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا

قائم مقام ضلعی رابط افسر کا کہنا تھا کہ دونوں واقعات میں پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ادھر سوات کے علاقے مٹہ میں تعینات فوج کے پانچ سو سے زائد جوانوں اور گاڑیوں کے ایک قافلے کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں فرنٹیر ہاؤس کبل منتقل کردیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور تمام راستوں کو بند کردیا گیا تھا جبکہ قافلے کے حفاظت کےلیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تقریباً چار گھنٹے تک سوات کے تمام راستے بند رہے جس سے علاقے کا رابطہ ملک کے دیگر شہروں سے منقطع رہا۔ قافلے میں فوجی جوانوں کے علاوہ چار درجن کے قریب فوجی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔

واضح رہے کہ لال مسجد آپریشن کے بعد فوج کو سوات کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جس کے بعد ان پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف صوبائی حکومت نے بھی فوجی جوانوں کی مختلف علاقوں میں تعیناتی پر ناراضگی کا اظہار کرکے صدر جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا تھا کہ فوج کو ایک جگہ تعینات کیا جائے تاکہ عام لوگوں کو مشکلات پیش نہ ہوں۔

اسی بارے میں
دیر پولیس موبائل پر حملہ
10 July, 2007 | پاکستان
دیر میں پولیس پر بم حملہ
17 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد