دیر: ہلاکتوں کی تعداد سو ہو گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے پہاڑی ضلع دیر بالا میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو آسمانی بجلی گرنےاور شدید آندھی و طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی ہے جبکہ کئی افراد لاپتہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داودزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیر بالا کا علاقہ بہت دشوار گزار ہے جس وجہ سے ہلاکتوں کے بارے میں حتمی تعداد بتانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ آصف اقبال نے بتایا کہ سیلابی ریلے سے بہت سے مکانات مکمل طور پر بہہ گئے ہیں اور ان میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل دیر بالا کے ضلعی رابطہ افسر اجمل خان نے متاثرہ علاقے اوشیرئی سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ اب تک ملبے سے پینتالیس افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طوفان اور شدید بارش سے نشنامل اور اوشیرئی کے علاقوں میں نو گھر اور ایک مسجد پانی میں بہہ گئے ہیں۔ دریں اثناء پاکستان کے محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ سرحد، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں، بلوچستان کے شمالی علاقوں، بلائی سندھ اور کشمیر کے اکثر مقامات پر گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ دوسری طرف متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں تاخیر کے باعث متاثرین کی مشکلات میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعہ کے فوری بعد متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی تھیں اور پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار ملبے سے لاشیں نکالنے اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی فوری امداد کے لیے ٹینٹ، کمبل اور غذائی امداد بھی پہاڑی علاقوں میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ ادھر متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے والے دیر کے مقامی صحافی دلاور جان بنوری نے بی بی سی کو بتایا کہ امدادی سرگرمیوں میں تاخیر کے باعث متاثرین کے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق طوفان سے کئی گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور علاقے میں سخت خوف و ہراس اور افراتفری ہے۔انہوں نے بتایا کہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی میں اکثریت غریب لوگوں کی ہے اور طوفان کے باعث ان کے مکانات اور مال مویشی سب کچھ تباہ ہوگئے ہیں۔ دلاور جان کا کہنا تھا کہ انہیں علاقے میں چند پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی سرکاری اہلکار نظر نہیں آیا جبکہ مقامی لوگ خود گھروں کے ملبے سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔ ان کے بقول جس وقت طوفان آیا اس وقت ناشنامل گاؤں کے مسجد میں ایک جرگہ ہو رہا تھا جس میں ایک اندازے کے مطابق ستر افراد شریک تھے اور جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سب کے سب پانی میں بہہ گئے ہیں۔ تاہم اس اطلاع کی تاحال سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔مقامی صحافی نے مزید بتایا کہ اگر حکومت نے فوری طورپر امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی تو متاثرہ افراد کے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں سیلاب و آسمانی بجلی سے 16 ہلاک16 June, 2007 | پاکستان بارشوں سے تباہی اور ہلاکتیں25 June, 2007 | پاکستان سیلابی ریلے میں پانچ بچے ڈوب گئے30 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||