BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 June, 2006, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیلابی ریلے میں پانچ بچے ڈوب گئے

بلوچستان میں سیلاب(فائل فوٹو)
ابتر آبی گزرگاہوں کی وجہ سے مقامی آبادی اکثر مالی و جانی نقصان اٹھاتی ہے
بلوچستان کے شہر موسی خیل میں سیلابی ریلے میں پانچ بچے اور بچیاں ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ کوئٹہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر دور ضلع موسی خیل کی تحصیل کنگری میں پیش آیا۔

موسی خیل کے ضلعی رابطہ افسر اسلم جمالی نے بتایا ہے کہ دو بچوں اور تین بچیوں نے بارش سے بچنے کے لیئے ایک پل کے نیچے پناہ لی کہ اچانک قریبی علاقوں میں مسلسل بارشوں سے آنے والا سیلابی ریلا انہیں بہا لے گیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی لاشیں مل گئی ہیں جنہیں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے علاقوں ژوب اور موسی خیل میں اس موسم میں شام کو تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے اور قریبی پہاڑوں سے بہنے والا بارش کا یہ پانی سیلابی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے اکثر انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور مال مویشی بہہ جاتے ہیں۔

موسٰی خیل سے تعلق رکھنے والے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سردار اعظم موسٰی خیل نے گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی میں بتایا تھا کہ ان کے علاقے میں آسمانی بجلی معمول سے زیادہ گرتی ہے اور اس سے کئی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

بلوچستان کے ان پسماندہ علاقوں میں آبی گزرگاہوں کا بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو اکثر مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
دریائے چناب میں سیلاب
08 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد