سیلابی ریلے میں پانچ بچے ڈوب گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر موسی خیل میں سیلابی ریلے میں پانچ بچے اور بچیاں ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ کوئٹہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر دور ضلع موسی خیل کی تحصیل کنگری میں پیش آیا۔ موسی خیل کے ضلعی رابطہ افسر اسلم جمالی نے بتایا ہے کہ دو بچوں اور تین بچیوں نے بارش سے بچنے کے لیئے ایک پل کے نیچے پناہ لی کہ اچانک قریبی علاقوں میں مسلسل بارشوں سے آنے والا سیلابی ریلا انہیں بہا لے گیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی لاشیں مل گئی ہیں جنہیں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے علاقوں ژوب اور موسی خیل میں اس موسم میں شام کو تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے اور قریبی پہاڑوں سے بہنے والا بارش کا یہ پانی سیلابی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے اکثر انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور مال مویشی بہہ جاتے ہیں۔ موسٰی خیل سے تعلق رکھنے والے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سردار اعظم موسٰی خیل نے گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی میں بتایا تھا کہ ان کے علاقے میں آسمانی بجلی معمول سے زیادہ گرتی ہے اور اس سے کئی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان کے ان پسماندہ علاقوں میں آبی گزرگاہوں کا بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو اکثر مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں تمباکو کی پچاس فیصد فصل تباہ27 July, 2005 | پاکستان بڑا سیلابی ریلا سندھ میں داخل10 July, 2005 | پاکستان دریائے چناب میں سیلاب08 July, 2005 | پاکستان سرحد میں دریائے کابل میں طغیانی23 June, 2005 | پاکستان صوبہ سرحد میں طغیانی کا خدشہ 21 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||