تمباکو کی پچاس فیصد فصل تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں کاشتکاروں خصوصاً تمباکو اگانے والوں کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے ان کی پچاس فی صد فصل تباہ ہوگئی ہے۔ سیلاب اور ژالہ باری سے متاثرہ علاقوں کے کاشت کاروں نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔ اتحاد کاشتکاران، صوبہ سرحد کے صدر عارف علی خان نے بدھ کے روز پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ضلع صوابی، مردان اور چارسدہ میں حالیہ سیلاب اور ژالہ باری سے فصلوں کو خصوصا تمباکو کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے پاس کوئی ٹھوس اعدادوشمار تو نہیں تھے تاہم انہوں نے اس نقصان کو کروڑوں روپے میں بتایا۔عارف خان کا کہنا تھا کہ ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ ان کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے آٹے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ ایسے متاثرہ کاشت کاروں کی تعداد بھی انہوں نے ہزاروں میں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سیلابی پانی فصلوں میں کھڑا ہوگیا جس سے تمباکو جل گیا ہے‘۔ ان کاشت کاروں نے مرکزی حکومت سے جو ان کے بقول ان سے ہر سال تیس ارب روپے کا ٹیکس وصول کرتی ہے ان کے نقصان کا ازالہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے تمباکو خریدنے والی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اُن کی فصلوں کے بیمے کا بندوبست کیا کریں تاکہ ان کو مالی مشکلات سے بچایا جاسکے۔ مطالبات پر غور نہ کرنے کی صورت میں کاشتکاروں نے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||