قبائلی علاقے: خود کش حملوں کی جڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سکریٹری داخلہ سید کمال شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں خود کش حملوں کی جڑیں قبائلی علاقے میں ہیں۔ اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں زخمی سپاہیوں کی عیادت کے بعد سید کمال شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو آبپارہ کے علاقے میں ایک ہوٹل کے باہر ہونے والا دھماکہ بھی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بظاہر خودکش حملہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کرنے والے اہلکاروں نے انہیں بتایا ہے کہ دھماکے کے مقام پر کوئی گڑھا نہیں بنا جس سے خودکش حملے کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔ ’تکنیکی ماہرین کی ٹیم کو کسی فیصلے پر پہنچنے میں ابھی تھوڑا وقت لگے گا لیکن زیادہ شواہد خودکش کے ہی ہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں کہ خودکش حلموں کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کچھ زیادہ موثر دکھائی نہیں دیتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ ’جگہ جگہ سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، چوکیاں قائم کی گئی ہیں، تلاشیاں لی جا رہی ہیں، جہاں اس قسم کے لوگ آکر ٹھہر سکتے ہیں ان کو دیکھا جا رہا ہے۔ میں اگر ساری تفصیل بتا دوں گا تو کرنے والا ہوشیار ہو جائے گا‘۔ یہ دریافت کرنے پر کہ آیا وہ خودکش حملہ آروں کی جڑ تک پہنچ پائے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ جڑ یہاں ہے نہیں۔ ’جڑ فاٹا میں ہے‘۔ سید کمال شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تیرا افراد جن میں سات پولیس اہلکار شامل ہیں کے ہلاک اور باون افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ | اسی بارے میں ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کھلنے پر ہنگامہ آرائی27 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: رنگ بدلا، ڈھنگ وہی 27 July, 2007 | پاکستان سرحد: چھ اہلکاروں سمیت نو زخمی26 July, 2007 | پاکستان سوات کار بم دھماکہ، پانچ ہلاک12 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: طاقتور دھماکوں، فائرنگ کی آوازیں04 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||