قبائلی علاقوں سے باہر قبائلی فکر مند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد آپریشن کے بعد ملک میں جہاں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے وہاں قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی مقامی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ مقامی طالبان علی الاعلان خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں اور مزید حملوں کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ کراچی میں رہائش پذیر وزیرستان سمیت دوسرے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے علاقوں کی اس کشیدہ صورتحال پر فکرمند نظر آتے ہیں۔ کراچی کے نواحی علاقے فقیرا گوٹھ میں رہائش پذیر 27 سالہ نوجوان احسان اللہ پرچون کی دوکان چلاتے ہیں اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے ان کا کہنا ہے کہ’صورتحال بہت بگڑی ہوئی ہے حکومت غریب عوام پرظلم کررہی ہے۔القاعدہ کا نام لیا جاتا ہے لیکن القاعدہ کوئی نہیں ہے حکومت نے خود طالبان کو ٹریننگ دی تھی‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وزیرستان کے لوگوں نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ حکومت خود القاعدہ کے نام پر وہاں حملے کرکے تشدد کو ہوا دے رہی ہے‘۔ حکومت کی پالیسی اور اقدامات سے اختلاف رکھنا الگ بات ہے لیکن کیا اس سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا جواز بنتا ہے؟ احسان اللہ اسکا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ’ نہیں سیکیورٹی والے بھی ہمارے بھائی ہیں وہ سب بھی ہمارے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ان پر حملے نہیں کیے جانے چا ہئیں‘۔
وزیرستان ہی سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ حاجی رسول خان محسود بھی ان سے سو فیصد متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’وزیرستان میں جو کچھ ہورہا ہے یہ حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے ہورہا ہے اس کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ وزیرستان کے لوگ دین کے شیدائی ہیں ابھی آپ کو پتہ ہے کہ لال مسجد کا واقعہ ہوا جہاں بچے بچیاں سالہا سال سے پڑھ رہے تھے۔ وہ ماضی میں تو دہشتگرد نہیں تھے لیکن آج بش کو خوش کرنے کے لئے انہیں دہشتگرد بنادیا گیا‘۔ انہوں نے کہا’ حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے یہ مسئلہ اور بڑھے گا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ جتنے بھی قبائلی کراچی میں رہ رہے ہیں وہ اسلام کے پکے شیدائی ہیں اور ہمارے قبائلی علاقہ جات میں حکومت جو کچھ کررہی ہے تو یہ تمام قبائیلیوں کا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی سپورٹ کریں‘۔
لیکن وزیرستان کے ہی عبدالقدوس برکی جو بال بچے دار ہیں اور ٹھیکیدار کا کام کرتے ہیں، مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار نے قبائلی علاقوں میں لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے کوئی نظام قائم نہیں کیا جو مسئلے کی بنیادی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں جو خاص لوگ ہیں چند خاندان ہیں انہیں کو نوازا جاتا ہے غریب لوگوں کو وہاں حقوق ملتے ہی نہیں ہیں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے لوگ انتہا پسندی کی طرف جاتے ہیں اور وہ انتہاپسندی پر مجبور ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے وفاق کے زیرانتظام ہیں لیکن اگر وہ سرکاری اداروں کے بارے میں وفاقی محتسب یا کسی دوسرے وفاقی ادارے کو شکایت بھیجتے ہیں تو انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ قبائلی علاقے ان کی حدود میں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قبائلی علاقوں میں بلاامتیاز ترقیاتی کام کرنے چاہیں اور وہاں کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کرنے چاہیں تاکہ لوگوں میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم ہو۔ | اسی بارے میں خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک14 July, 2007 | پاکستان بنوں: دھماکے میں تین فوجی زخمی14 July, 2007 | پاکستان چوکی پرحملہ، پانچ حملہ آور ہلاک18 July, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، سترہ ہلاک18 July, 2007 | پاکستان اسلام آباد: دھماکے کے بعد کا منظر18 July, 2007 | پاکستان دو ہفتوں کے دوران آٹھ خود کش حملے18 July, 2007 | پاکستان ہنگو میں خود کش حملہ، پانچ ہلاک19 July, 2007 | پاکستان پاکستان: چھ ماہ میں انیس خودکش حملے18 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||