ہنگو میں خود کش حملہ، پانچ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز میں ایک مبینہ کار بم خودکش حملے میں پانچ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ہنگو کے ضلعی رابط افسر فخرعالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب سوزوکی آلٹو گاڑی میں سوار ایک خودکش حملہ آوار نے پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز میں داخل ہونے کوشش کی۔ مرکز کے میدان میں پولیس اہلکار تربیت میں مصروف تھے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور کو جب تربیتی مرکز کے گیٹ پر روکا گیا تو اس دوران اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ضلعی رابط افسر کے مطابق دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں حملہ آوار، دو پولیس اہلکار اور دو راہگیر شامل ہیں جبکہ بائیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے جبکہ قریب کھڑی دو اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے فوری بعد ہنگو کوہاٹ روڈ ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا اسکی آواز کئی کلومیٹر تک سنائی دی۔ ہنگو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ بعض زخمیوں کو کوہاٹ اور پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ ضلعی رابط افسر کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے جو پولیس نے اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ پولیس ٹریننگ کالج کے تربیتی مرکز کے میدان میں ہر صبح پریڈ ہوتی ہے جس میں سینکڑوں پولیس اہلکار حصہ لیتے ہیں۔ ادھر اس واقعہ کے بعد ہنگو میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اورشہر کو آنے جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور فرنٹیر کور کے دستوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل بھی ہنگو کے ضلعی ناظم غنی الرحمان کو گھر جاتے ہوئے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔ جب سے سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد کی لال مسجد کے خلاف آپریشن کیا ہے ملک میں فوج اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ بدھ کے روز قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب ایک فوجی قافلے پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سترہ فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔ میران شاہ کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ مدہ خیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب لواڑہ منڈی سے میران شاہ آنے والے ایک قافلے پر پہاڑیوں میں چھپے ہوئے مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ انتظامیہ کے مطابق جس جگہ حملہ ہوا وہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اس حملے میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔ مسجد پر حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت کے ساتھ کیے امن معاہدے کو بھی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ |
اسی بارے میں چوکی پرحملہ، پانچ حملہ آور ہلاک18 July, 2007 | پاکستان ’حملے حکومتی پالیسی کا ردعمل‘18 July, 2007 | پاکستان ’دھماکے کانشانہ چیف جسٹس تھے‘18 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج18 July, 2007 | پاکستان ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان یہ خود کش حملہ تھا: طارق عظیم17 July, 2007 | پاکستان دھماکہ، وکلاء کا یومِ سوگ18 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||