’حملے حکومتی پالیسی کا ردعمل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے کمانڈر مولانا فقیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود ’مجاہدین‘ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی سربراہی میں متحد ہیں اور مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے سرگرم عمل ہیں۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فقیر محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم ’مجاہدین‘ کی توجہ افغانستان اور عراق میں اتحادی اور امریکی فوجیوں کے خلاف لڑنے پر مرکوز تھی، مگر بقول ان کے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ پاکستان کے اندر بھی خود کش حملے کرنے کی حکمت عملی اپنائیں۔ ملا فقیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ’اگر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ نہیں چھوڑا تو پھر افغانستان اور کشمیر میں توامن ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جائے گی۔‘ انہوں نے باجوڑ میں حکومت کے ساتھ کیےگئے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ہر وقت خطرے میں ہے اور اگر دونوں فریقین کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے تو پھر آئندہ ’مجاہدین‘ کا معاہدے کے نام سے اعتبار اٹھ جائے گا اور حالیہ معاہدے کی حیثیت بھی ختم ہوجائے گی۔ ان کے بقول وہ کسی بھی حکومتی کارروائی کی صورت میں دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے امن معاہدے کے توڑے جانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ حکومت نے توڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مختلف علاقوں میں سرگرم ’مجاہدین‘ کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ مولانا فقیر کے مطابق حکومت طالبان کی طاقت تقسیم کرنے کے لیے انہیں ایک ایک کر کے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت ایک جگہ پر معاہدہ کرتی ہے جبکہ دوسرے مقام پر فوج تعینات کرتی ہے۔ ’لیکن حالیہ حملوں نے حکومت کے ارادوں کو کمزور کر دیا ہے۔‘ واضح رہے کہ مولانا فقیر محمد کو اس وقت شہرت ملی جب گزشتہ برس تیرہ جنوری کو رات تین بجے امریکی طیاروں نے تین مکانات کو بمباری کر کے تباہ کر دیا تھا اور یہ اطلاعات تھیں کہ وہاں پر القاعدہ کے رہنماء ایمن الزواہری مولانا ان کے مہمان کے طور پر موجود تھے۔ مولانا فقیر محمد نے اس کی تردید کی تھی۔ حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بعد ان کی سرگرمیاں کم ہوگئی تھیں، لیکن لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بعد مولانا فقیر محمد اور انکے ساتھی ایک بار پھر سرگرم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں پولیٹیکل ایجنٹ پر خودکش حملہ12 July, 2007 | پاکستان حکومت کو طالبان کا انتباہ11 July, 2007 | پاکستان امن معاہدے کی خلاف ورزی: گورنر07 July, 2007 | پاکستان باجوڑ میں ’طالبان‘ سڑکوں پر 18 June, 2007 | پاکستان طالبان افغانستان نہیں جارہے: فوج11 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||