BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملے حکومتی پالیسی کا ردعمل‘

مولانا فقیر
مولانا فقیر کو اس وقت شہرت ملی جب کہا گیا کہ ایمن الزواہری ان کے مہمان تھے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے کمانڈر مولانا فقیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود ’مجاہدین‘ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی سربراہی میں متحد ہیں اور مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے سرگرم عمل ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فقیر محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم ’مجاہدین‘ کی توجہ افغانستان اور عراق میں اتحادی اور امریکی فوجیوں کے خلاف لڑنے پر مرکوز تھی، مگر بقول ان کے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ پاکستان کے اندر بھی خود کش حملے کرنے کی حکمت عملی اپنائیں۔

ملا فقیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ’اگر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ نہیں چھوڑا تو پھر افغانستان اور کشمیر میں توامن ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جائے گی۔‘

انہوں نے باجوڑ میں حکومت کے ساتھ کیےگئے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ہر وقت خطرے میں ہے اور اگر دونوں فریقین کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے تو پھر آئندہ ’مجاہدین‘ کا معاہدے کے نام سے اعتبار اٹھ جائے گا اور حالیہ معاہدے کی حیثیت بھی ختم ہوجائے گی۔ ان کے بقول وہ کسی بھی حکومتی کارروائی کی صورت میں دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

تقسیم کرو اور مارو
 حکومت طالبان کی طاقت تقسیم کرنے کے لیے انہیں ایک ایک کر کے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت ایک جگہ پر معاہدہ کرتی ہے جبکہ دوسرے مقام پر فوج تعینات کرتی ہے
مولانا فقیر محمد

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے امن معاہدے کے توڑے جانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ حکومت نے توڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مختلف علاقوں میں سرگرم ’مجاہدین‘ کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔

مولانا فقیر کے مطابق حکومت طالبان کی طاقت تقسیم کرنے کے لیے انہیں ایک ایک کر کے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت ایک جگہ پر معاہدہ کرتی ہے جبکہ دوسرے مقام پر فوج تعینات کرتی ہے۔ ’لیکن حالیہ حملوں نے حکومت کے ارادوں کو کمزور کر دیا ہے۔‘

واضح رہے کہ مولانا فقیر محمد کو اس وقت شہرت ملی جب گزشتہ برس تیرہ جنوری کو رات تین بجے امریکی طیاروں نے تین مکانات کو بمباری کر کے تباہ کر دیا تھا اور یہ اطلاعات تھیں کہ وہاں پر القاعدہ کے رہنماء ایمن الزواہری مولانا ان کے مہمان کے طور پر موجود تھے۔ مولانا فقیر محمد نے اس کی تردید کی تھی۔

حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بعد ان کی سرگرمیاں کم ہوگئی تھیں، لیکن لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بعد مولانا فقیر محمد اور انکے ساتھی ایک بار پھر سرگرم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

 مولوی فقیر محمد طالبان کی دھمکی
’لال مسجد محاصرہ ختم نہ ہوا تو اعلانِ جہاد‘
موسیقی پر حملہ
طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
ہارون رشیددورۂ جنوبی وزیرستان
فورسز کے حملے کا نشانہ بننے والے علاقے کا دورہ
مولوی فقیرمولوی فقیر کون؟
طالبان اور القاعدہ کومدد دینے کا الزام
طالبان جنگجو’ہم پر اللہ کا دباؤ ہے‘
اپنا دفاع کرنا شرعی فریضہ ہے: مولانا فقیر
باجوڑ: خوش آمدید
ایمن الظواہری آئیں تو فخر ہوگا: مُلا فقیر محمد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد