عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر کئی بار اختلافات پیدا ہوئے ہیں |
صوبہ سرحد کے گورنر نے پچھلے سال ستمبر میں مقامی طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے پر عملدر آمد کے نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے بعد بھی سرحد پار دراندازی، خودکش حملے اور اغواء کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق گورنر علی جان اورکزئی نے ان خیالات کا اظہارگورنر ہاؤس پشاور میں سنیچر کوشمالی وزیرستان کے اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کے دوران کیا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال بتدریج خراب ہورہی ہے۔ انہوں نے جرگے کے ارکان کو خبر دار کیا کہ ’شالی وزیرستان کی آئندہ نسلوں کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور حکومت علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت سمیت کئی طریقے استعمال کرسکتی ہے۔‘ انہوں نے پچھلے سال ستمبر میں اتمانزئی قبیلے کی توسط سے حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’معاہدے کے بعد بھی سرحد پار دراندازی، خودکش اور راکٹ حملوں اور اغواء کی کئی وارداتیں پیش آئی ہیں۔‘ انہوں نے بعض خواتین کے اغواء ہونے کی بھی بھر پور مذمت کی اور کہا کہ یہاں تک ’حکومتی خواتین اہلکاروں کو بھی اغواء کیا گیا جو قبائلی روایات کے خلاف ہے۔‘ گورنر نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان غیرملکیوں کے لیے ایک بہترین آماجگاہ بن چکا ہے۔ ’غیرملکی ایجنسی میں پیش آنے والے تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہیں اور قبائلیوں کو ہر صورت میں انہیں نکالنا ہوگا۔‘ انہوں نے قبائلی عمائدین کو مشورہ دیا کہ انہیں اپنے لیے درست راستے کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ’ جس انداز سے حالات میں تبدیلی آرہی ہے اس کے نتائج ان کے کے لیے انتہائی تباہ کن ہونگے۔‘ واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صوبہ سرحد کے گورنر نے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جرگے سے خطاب کے دوران سخت لب و لہجےکا استعمال کیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب دوران کہا تھا کہ ’وہ صورتحال درست کریں ورنہ حکومتی عملداری کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘ علی جان اورکزئی نے ان خیالات کا اظہار ایسے وقت کیا ہے جب شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ گزشتہ برس ستمبر میں ان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ |