BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 June, 2007, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی اپنا نقصان چھپاتے ہیں‘

حاجی عمر
ہارون رشید نے شمالی وزیرستان میں حاجی عمر سے ملاقات کی
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر حاجی عمر
خطرے کی وجہ سے آج کل اپنے آبائی گاؤں کلوشہ تو نہیں جاسکتے لیکن افغانستان آنا جانا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں۔

سیاہ رنگ دی ہوئی بڑی داڑھی اور سیاہ پگڑی چھیالیس سالہ حاجی عمر کی شخصیت کا حصہ ہیں۔ ان سے گلے ملیں تو کپڑوں کے اندر چھپے اسلحہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی عام قبائلی نہیں۔

جنوبی وزیرستان میں غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کی وجہ سے ان کے ملا نذیر احمد سے اختلافات پیدا ہوئے، لڑائی ہوئی اور انہیں بچ جانے والے غیرملکیوں کے ساتھ شمالی وزیرستان منتقل ہونا پڑا۔

لیکن اس کے باوجود یہ شخص ایک ایسی تحریک کا حصہ ہے جس کی نظر اب صرف افغانستان تک محدود نہیں۔ ’ہماری اسلامی امارات کی کوئی سرحد نہیں۔ شمال، مغرب اور جنوب ہم کسی بھی سمت پیش قدمی کرسکتے ہیں۔‘

یہی وجہ ہے کہ طالبان تحریک نے ایک غیرمعمولی فیصلہ کرتے ہوئے کسی پاکستانی کی جگہ قبائلی علاقوں میں اپنی تحریک چلانے کے لیے جلال الدین حقانی جیسے افغان رہنما کا انتخاب کیا۔

ملا داداللہ کی ہلاکت طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے

اس پس منظر میں حاجی عمر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو جواب ملا: ’میں کل صبح افغان سرحد تک جا رہا ہوں ضروری کام سے، آپ سے شام میں ملاقات ممکن ہے۔‘

لہذا شمالی وزیرستان میں میرعلی شہر کے قریب ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع غیرآباد مکان میں ملاقات طے ہوئی۔ ایک بڑے سے کمرے میں جس کی دیواروں پر بڑی بڑی دراڑوں کو دیکھ کر خوف آتا تھا کہ یہ کسی زلزلے کا نتیجہ ہے یا بمباری کا۔ فرش پر بیٹھے اور بات چیت کا آغاز کیا۔

اس ملاقات میں حاجی عمر کے ساتھ افغان صوبے خوست کے ایک کمانڈر عبدالغنی بھی موجود تھے۔ حاجی عمر پاکستان کے قبائلی علاقوں سے زیادہ افغانستان میں اپنی کارروائیوں پر بات کرنے کے خواہشمند تھے۔ سوال جواب کے دوران دونوں میں مشاورت بھی جاری رہی۔

ان کا دعوی ہے کہ جنوبی افغانستان کے زیادہ تر علاقے اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

’جنوبی افغانستان کے اکثر ضلعے ہمارے قبضے میں ہیں۔ افغان حکومت اور اس کے اتحادی صرف ضلع کے صدر مقام تک کنٹرول رکھتے ہیں۔ باقی سب علاقہ ہمارے پاس ہے۔‘

حاجی عمر اور ملا نذیر کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے

تقریباً ایک گھنٹے کے انٹرویو میں حاجی عمر کے مسلح محافظ کمرے کے باہر چاک وچوبند کھڑے رہے۔

حاجی عمر کا کہنا تھا کہ طالبان اب بھی بھرپور کارروائیوں میں مصروف ہیں لیکن امریکی اپنے نقصانات کو چھپاتے ہیں۔ ’ہم ہیلی کاپٹر گراتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ایک زخمی۔ ہم گاڑی تباہ کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ایک مارا گیا۔ اگر طالبان ایک دن میں پچاس کارروائیاں کرتے ہیں تو امریکی صرف پانچ کی تصدیق کرتے ہیں۔‘

حاجی عمر افغانستان میں روسی افواج کے خلاف مزاحمت کے دوران کئی مرتبہ زخمی بھی ہوئے تھے۔

انہوں نےشدت پسندوں کے پاکستان سے افغانستان جانے کےبارے میں ایک سوال کا جواب بغیر کسی پس و پیش کہ یہ دیا کہ ماضی سے زیادہ تعداد میں لوگ جا رہے ہیں۔ ’باڑ ناکام رہی ہے۔ لوگ اب بھی بڑی تعداد میں جہاد کے لیے جا رہے ہیں۔‘

پاکستان نے افغان سرحد پر پہلے مرحلے میں اسی ہزار فوجی تعینات کیے لیکن اس کے باوجود شدت پسندوں کی آمد و رفت جاری رہنے پر باڑ اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عالمی سطح پر اس فیصلے کی مخالفت سامنے آئی تھی لیکن پاکستان نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے کئی علاقوں میں باڑ نصب کرنا شروع کر دی۔

حاجی عمر نے اب تک کی جنگ میں کئی نقصان اٹھائے ہیں۔ وہ جنگجو نیک محمد جیسے اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کے علاوہ مالی نقصان بھی برداشت کرتے رہے ہیں۔ ان کا مکان پاکستانی حکام نے مسمار کر دیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ پیسوں کی خاطر غیرملکیوں کی مدد کرنے پر مجبور ہیں لیکن وہ اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔

حاجی عمر کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر اکثر کارروائیاں طالبان خود کرتے ہیں اور غیرملکیوں کی اس میں شرکت کافی کم ہے۔ تاہم ان کا دعوی تھا کہ انہیں ایران کے راستے عراق سے اسلحہ ملتا ہے۔

طالبان کا دعوی ہے کہ زیادہ تر جنوبی افغانستان پر ان کا قبضہ ہے

حاجی عمر جیسے طالبان رہنما سمجھتے ہیں کہ ان کی فتح زیادہ قریب نہیں لیکن انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ جان لیوا حملوں سے وہ آہستہ آہستہ کامیابی کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔

’ہمیں اس برس کمانڈر عثمانی اور ملا داد اللہ کی ہلاکتوں کی صورت میں زیادہ نقصان پہنچا ہے لیکن ہمیں یقین ہے اس سے ہماری تحریک کو مزید طاقت ملے گی۔‘

افغانستان کے علاوہ حاجی عمر کی پاکستانی حالات و واقعات پر بھی نظر ہے۔ ان سے گزشتہ دنوں اسلام آباد کی لال مسجد کی انتظامیہ کے حق میں بیان دینے کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے طلبہ کی جانب سے مدد کے اعلان کی درخواست بھیجی تھی لیکن میں مصروفیات کی وجہ سے نہ کر سکا۔ ’پھر مولانا عبدالعزیز نے ٹیلیفون پر دوبارہ یاد کرایا تو دینا پڑا۔‘

کمانڈر حاجی عمر سے واپسی کے لیے اجازت لی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے رخصت کیا کہ بہت جلد وہ خوست ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے ہیں اور آپ کو ’ بڑی خبر ملے گی۔‘

ان کے دل و دماغ پر ہر وقت امریکی حاوی ہیں۔ روانہ ہوتے وقت حاجی عمر نے مغرب کی طرف افق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو آخری پہاڑ ہیں وہ افغانستان ہے، جہاں امریکی ہیں۔

ملا نذیر احمدازبک اور ملا نذیر
’فساد گر‘ غیر ملکیوں کیلیے کوئی جگہ نہیں‘
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد