افغان خواتین، خوف اور جبر کی فضا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے تین ماہ سے افغان خاتون رکن پارلیمان شکریہ بارکزئی کو ایک خط مل رہا ہے جس میں انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگلے چھ ماہ کے دوران ان پر خودکش حملہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بھیجے جانے والے ان خطوط کا مضمون مبہم ہوتا ہے اور بس خفیہ ذرائع کے حوالے سے متنبہ کیا گیا جاتا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں ہوشیار رہنا چاہیے۔ شکریہ بارکزئی ان چھ ارکان پارلیمان میں شامل ہیں جنہیں ایسی وارننگ موصول ہو رہی ہیں۔ تین بیٹیوں کی ماں بلند حوصلہ شکریہ بارکزئی کہتی ہیں ’حکومت ہر ماہ بس ایک خط بھیج دیتی ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے جبکہ سکیورٹی مہیا کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہوتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگجو سرداروں کی مخالفت، حقوق نسواں کی حمایت اور پاکستان پر تنقید کے باعث انہیں کئی اطراف سے خطرہ ہے۔ ’میں پاگل ہو جاؤنگی، میرے احباب مجھے ملک چھوڑنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ میرے شوہر پریشان ہیں، بہرحال میں ایک بیوی اور ماں بھی تو ہوں‘۔
صحافی سے رکن پارلیمان بننے والی شکریہ بارکزئی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کابل میں دو خاتون صحافیوں کے قتل کے بعد یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ افغانستان میں بااثر خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد افغانستان میں خواتین کو اگرچہ آئین کے تحت بااختیار کر دیا گیا ہے لیکن انہیں خوف کی فضاء میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ تین سو اکسٹھ ارکان پر مشتمل افغان پارلیمان میں اکانوے خواتین ہیں۔ مردوں کے روایتی افغان معاشرے میں خواتین نے جبری شادیوں، غیرت کے نام پر قتل، اسقاطِ حمل اور زنا بالجبر پر بات کرنا شروع کر دی ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں نے ایسے تمام مظالم کا ریکارڈ رکھنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن ریاست خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ شہر میں پلی بڑھی رکن پارلیمان شکریہ بارکزئی بھی اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔ ’میں گھر سے نکلتی ہوں تو یہ یقین نہیں ہوتا کہ واپسی ہوگی بھی کہ نہیں۔ ملک چھوڑنےکا ابھی میرا کوئی منصوبہ نہیں، لیکن مجھے اپنے بچوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا‘۔
زابل سے واحد رکنِ پارلیمان توارپیکے بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’زابل میں خواتین کارکنوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں، میں طالبان کے دوبارہ زور پکڑنے پر پریشان ہوں‘۔ توارپیکے نے لڑکوں کے سکول میں تعلیم حاصل کی اور پچھلے بائیس سال سے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتی آ رہی ہیں۔ دو سال قبل جب انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو طالبان نے ان کے بائیس سالہ بھائی کو ہلاک کر دیا۔ رکنِ پارلیمان بننے کے بعد بھی انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پچھلے تین ماہ سے انہیں ان کی ماہانہ تنخواہ 937 ڈالر بھی ادا نہیں کی جا رہی ہے۔ اگر ملک کی ’طاقتور‘ خواتین کا یہ حال ہے تو ظاہر ہے عام خواتین کی مشکلات اس سے کہیں زیادہ ہونگی۔ افغانستان کے انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے گزشتہ سال خواتین کے خلاف زیادتی کے پندرہ سو واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ ان واقعات کے اعداد و شمار کو پڑھنا ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک تہائی خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنیں، دو سو خواتین کی مرضی کے بر خلاف زبردستی شادی کی گئی، جن میں سے اٹھانوے نے خود کو آگ لگا لی جبکہ سو سے زائد نے زہر خورانی کے ذریعے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔
انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے شعبہ خواتین کی سربراہ ڈاکٹر ثرّیا سوبھرنگ کے مطابق دیہی علاقوں میں آج بھی جرگہ کے ذریعے فیصلے کیے جاتے ہیں، جن میں سے اکثر خواتین کے خلاف ہوتے ہیں۔ ’ہمارے پاس آئین اور عدالتیں ہیں، جرگہ کے ذریعے فیصلے کرنے والے کون ہوتے ہیں‘۔ کمزور اور وسیع پیمانے پر بدعنوان ریاستی مشینری اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے۔ زابل اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی ایک بڑی مثال ہے۔ توارپیکے کہتی ہیں کہ حکومتی اہلکار سست اور غیر مخلص ہیں جبکہ بے روزگاری عام ہے اور سکول کم۔ ’اس صورتحال نے لوگوں کو دوبارہ طالبان کی طرف راغب کر دیا ہے اور خواتین سب سے زیادہ پس رہی ہیں‘۔ |
اسی بارے میں افغان خواتین، خود سوزی کا رجحان15 November, 2006 | آس پاس افغان خواتین کی حالت نہیں بدلی30 May, 2005 | آس پاس ’افغان عورت کی تقدیر نہیں بدلی‘06 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||