| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئین پر عملدرآمد نیا چیلنج
ایک کٹھن سفر، چالیس برسوں کے طویل انتظار اور گرماگرم بحث کے بعد افغانستان کو نیا آئین مل گیا ہے۔ آئین کی منظوری انتہائی مشکل ضرور تھی لیکن ناممکن نہیں۔ سیاسی مبصرین ایک سو ساٹھ شقوں پر مشتمل دستاویز کی منظوری کے فوراّ بعد اصل چیلنج اس پر عمل درآمد کو دیکھ رہے ہیں۔ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں مستقبل میں کون سا نظامِ حکومت اپنایا جائے گا۔ اس بارے میں صدر حامد کرزئی کی جانب سے صدارتی نظام کی ابتدا میں ہی حمایت نے تمام شقوق و شبہات کو تقریبا ختم کر دیا تھا۔ دیکھنا صرف یہ باقی تھا کہ شمالی اتحاد کی بعض جماعتیں جنہیں پارلیمانی نظام زیادہ پسند تھا کتنی مزاحمت کر سکتی ہیں یا اس نظام کے بدلے آئین میں کیا مراعات حاصل کر سکیں گی۔ بل آخر بظاہر بیرونی اور اندرونی دباؤ نے انہیں یہ نظام قبول کرنے پر آمادہ کر دیا ہے۔ لیکن اس آئین کی منظوری سے یہ مراد ہرگز نہیں لینی چاہیے کہ افغانستان کی مختلف قوموں کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔ بہت کچھ لینے اور دینے کے باوجود اختلافات ابھی بھی موجود ہیں اور قائم رہیں گے۔ مبصرین کے خیال میں ایک منصفانہ نظام کا قیام اور وقت ہی ان کو دور کرسکتا ہے۔ جو آئین افغان حکومت کے مقرر کردہ کمیشن نے ایک سال میں شبانہ روز کوششوں اور مشاورت سے ترتیب دیا اور گذشتہ برس نومبر میں عام کیا تھا لگ بھگ اسی کی جرگے نے بل آخر منظوری دے دی۔ البتہ تین ہفتوں کے دوران کئی مواقعے پر اس اجلاس کی سُست روی کو دیکھ کر اس کے ناقدین اسے بڑا جرگہ نہیں بلکہ بڑا جھگڑا کا نام بھی دینے لگے تھے۔ جو بھی ہو ایک مضبوط صدارتی نظام کی توثیق صدر حامد کرزئی کے لئے ایک بڑی جیت ثابت ہوئی ہے۔ ماہرین کے خیال میں جس قسم کا آئین وہ چاہ رہے تھے لگ بھگ وہی انہیں ملا ہے۔ اس تاریخی موقعہ پر صدر کرزئی نے اپنے خطاب میں اسے کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ تمام افغانوں کا آئین قرار دیا۔ تفصیلات کے مطابق جرگہ آئین میں صدارتی نظام پر متفق ہوا ہے۔ زبان جیسے حساس مسلہ پر بھی معاہدہ ہوا ہے اور پشتو اور دری کو سرکاری زبانوں کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ ملک میں بولی جانے والی دیگر چھ زبانوں کو ان کے علاقوں میں پشتو اور دری کے بعد سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوگا۔ قومی ترانہ پشتو میں ہی ہوگا اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد کے وزیر بنے کا مسلہ بھی عام انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والی اسمبلی کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ صدر کرزئی کے دو موجودہ قریبی وزیر امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ صدر کرزئی کی خواہش کے مطابق صوبائی شوری کے قیام کی بھی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ اب تمام نظریں منظور کئے جانے والے آئین کے نفاذ پر لگی ہیں۔ بین القوامی برادری اور افغان حکومت کے لئے ایک متفقہ آئین تو بظاہر ممکن نہیں ہوسکا اس کا نفاذ اس سے بھی بڑا چیلنج ہوگا۔ آئین کے نفاذ کے لئے ایک نئے کمیشن کے قیام کی بات کی گئی ہے لیکن بات اس سے بڑھ کر ہے۔ بات ملک میں غیرجانبدار اداروں جن میں عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں کا قیام ہے۔ آئین میں علاقائی اور لسانی بنیادوں پر سیاسی جماعتوں جوکہ کسی بھی جمہوری نظام کی بنیادی اکائی ہوتی ہیں پر پابندی عائد کرتا ہے۔ جبکہ افغانستان میں اس وقت جتنی بھی جماعتیں ہیں وہ نسلی یا لسانی بنیادوں پر قائم ہیں۔ کوئی ایسی جماعت نہیں جس کی مقبولیت ملک کے تمام بڑے نسلی گروہوں میں ہو۔ ایسی جماعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ کابل سے باہر حکومت کا دائرےاختیار بڑھانا ہوگا۔ جنگجو سرداروں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ہوگی۔ اس کے بعد ہی افغانستان میں نئے آئین کے تحت اس برس منصفانہ انتخابات ممکن ہوسکیں گے۔ افغانستان میں پائیدار امن کی جانب ایک اور قدم اٹھایا ہے۔ ہر اگلا قدم اس کے پچھلے قدم سے زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ مزید کئی اقدام ابھی باقی ہیں۔ لیکن اگر بین القوامی برادری اور افغانوں میں خواہش اور بیرونی امداد موجود ہو تو امکان ہے کہ مستقبل کے قدم بھی گرتے پڑتے اٹھا ہی لئے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||