BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 October, 2004, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیا: افغانوں کی زندگی میں نیا انقلاب
ٹیلی ویژن افغانستان کے قدامت پرست معاشرے میں نئی تبدیلیاں لارہا ہے
ٹیلی ویژن افغانستان کے قدامت پرست معاشرے میں نئی تبدیلیاں لارہا ہے
افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد عوام کی زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلیوں میں میڈیا کا انقلاب کافی اہم ہے۔ پورے ملک میں سیاسی جماعتیں، نجی کمپنیاں اور غیرجانبدار ادارے اخبار، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کا جال بچھا رہے ہیں۔

افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں بتیس اخبار، ٹی وی اور ریڈیو چینل ہیں جن میں ایک ایسا ریڈیو اسٹیشن بھی ہے جو صرف خواتین کی جانب سے چلایا جارہا ہے۔ شہر کی گلیوں میں لوگوں کو ریڈیو سنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور شب کو لوگ گھروں میں ٹی وی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں صدارتی انتخابات عوام کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ بھی الیکشن کوریج میں مصروف تھے۔ رابعہ بلخی نامی خواتین کا ریڈیو اسٹیشن انتخابات کے بارے میں ہر منٹ اطلاعات فراہم کرتا رہا ہے اور اس کے صحافی صرف شہر میں ہی نہیں بلکہ مزار شریف کے جیل میں بھی ہیں۔

یہ ذرائع ابلاغ مقامی سرداروں کے اثر و رسوخ میں بھی ہیں۔ حالیہ دنو ں میں آئینہ ٹیلی ویژن موسیقی اور فلموں کے ساتھ ساتھ مقامی امیدوار جنرل دوستم کی تقاریر گھنٹوں نشر کرتا رہا۔

اخباروں کا کردار بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اخبار ’الوس‘ (عوام) نے ایک سخت اداریہ بھی لکھا۔ اس کا کہنا ہے کہ کابل اور قندھار میں تعمیرنو کے کئی منصوبوں پر عمل ہورہا ہے لیکن مزار شریف میں کچھ نہیں۔ ’ہم کرزئی سے مزید امیدیں رکھتے ہیں۔‘

ایک اور اداریے میں الوس لکھتا ہے کہ ازبک کو افغانستان کی تیسری زبان قرار دیا جائے۔ ازبک افغانستان کے شمال میں اہم زبان ہے لیکن جنوبی علاقوں میں نہیں بولی جاتی ہے۔

ایک مزاحیہ پرچہ انتخابات کا مزاق اڑاتا ہے۔ ایک کارٹون میں حامد کرزئی کو طاقت کے زینے پر چڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ایک آہنی ہاتھ کی مدد سے۔ ہاتھ پر ٹیٹو میں ’یو ایس اے‘ لکھا ہوا ہے اور نیچے کئی افغان ہاتھ ہیں جو حامد کرزئی کو نیچے کھینچنا چاہتے ہیں۔

خواتین کا اخبار ’گوہر‘ وسیع ترمسائل پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس کے صفحات میں واپس آنے والے افغان پناہ گزین، وسائل کی کمی اور عالمی معاملات کو اہم مقام دیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ اخبار خواتین کے معاملات کو مرکزی کوریج دے رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد