افغانستان کی خاتونِ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی خاتونِ اول زینت کرزئی اپنی زندگی کے پہلے انٹرویو میں افغان ثقافت اور چالیس سال بعد افغانستان میں ہونے والے الیکشن کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ افغانستان کے صدر کی بیوی ہونے کے باوجود زینت کرزئی اس قدر گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی موجودگی کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔ حامد کرزئی کے قریبی رفقاء بھی ان کی بیوی کا نام تک نہیں جانتے۔ افغان عوام اپنی خاتون اول کے بارے میں اس قدر لاعلم ہیں کہ اکثر وہ کابل کے بازاروں میں خریداری کے لیے تنہا چلی جاتی ہیں۔ زینت کرزئی جن کے شوہر سولہ امریکی محافظوں اور سخت حفاظتی اقدامات کے بغیر اپنے محل سے ایک قدم باہر نہیں جاسکتے شہر میں تنہا گھومتی پھرتی ہیں۔ کابل میں صدارتی محل تک پہنچنے
اس حفاظتی حصار کے بعد محل میں چونتیس سالہ زینت کرزئی رہتی ہیں۔ گندمی رنگ والی شانوں تک سیاہ زلفیں پھیلائے سرخ ریشمی اسکارف اوڑھے زینت کرزئی کو انٹرویو کرنے والی حمیدہ غفور نے ایک فصیح اور صاحب رائے خاتون پایا۔ دو سال قبل کابل آنے والی زینت کرزائی آھستہ آھستہ اپنے پر کشش شوہر کے ساتھ ساتھ ایک عوامی شخصیت بنتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے زینت کرزئی کا نام جو تعلیم کے اعتبار سے ایک گائناکالوجسٹ ہیں کابل میں ایک ووٹر کی حیثیت سے درج کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے دفتر میں جہاں ان کے ووٹ کا اندراج کیا گیا کیمرے یا ٹیپ ریکارڈر کو سیکیورٹی کے پیش نظر لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے زینت کرزئی نے اسلام آباد
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ لوگ ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک قدامت پسند معاشرہ ہے اور وہ اس کی اقدار سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا انھیں احتیاط کے ساتھ قدم اٹھانا ہوں گے ورنہ وہ بہت سے لوگوں کو ناراض کر لیں گی۔ حامد کرزئی اس معاملے میں بہت محتاط ہیں۔ افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ نے انیس سو پچاس واشنگٹن اور مغرب کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اپنی بیوی کو عوامی اجتماعات اور سرکاری تقریبات میں لے جانا شروع کر دیا تھا جس سے قدامت پسند پختوں معاشرے میں شدید غصہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس سال خزاں میں ہونے والے انتخابات
بیگم کرزئی نے کہا کہ ان پر عائد پابندیوں سے وہ زیادہ پریشان نہیں ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث انھیں اپنا طب کا مقدس پیشہ بھی چھوڑنا پڑا۔ وہ پڑوسی ملک پاکستان کے شہر کوئٹہ میں گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں۔ وہ آج بھی فارغ اوقات میں طب کی کتابوں کا مطالعہ کرتی ہیں اور شام کو ان کے شوہر محل کے لان میں ٹینس کھیلتے ہیں۔دونوں میاں بیوی راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور وہ سر پر چادر اوڑھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زندگی گزارنے کا انہوں نے خود فیصلہ کیا اور وہ افغانستان میں ہی رہنا چاہتی ہیں اور اسے کبھی چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغان خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہیں لیکن اپنی حیثیت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغان عوام کی تعلیم
انہوں نے کہا اب خواتین اپنی روزی کما سکتی ہیں چاہیے وہ قالین بافی میں مزدوری کریں چاہیے وہ کابل کی سڑکوں پر۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے دورے حکومت میں تو وہ گھروں سے بھی نہیں نکل سکتی تھیں۔ زینت کرزئی کے والد قندھار میں ایک سرکاری ملازم تھے جو انیس سو ترانوے میں پاکستان کے شہر کوئٹہ چلے گئے تھے۔ زینت کرزئی نے اس وقت کابل یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی سند حاصل کی تھی۔ زینت کرزئی نے کہا کہ ہم اللہ کے سہارے
حامد کرزئی ان کے دور کے رشتہ دار تھے اور ان کی شادی گھروالوں کی مرضی سے انجام پائی تھی۔ حامد کرزئی کی عمر اس وقت چالیس سال تھی۔ ان کے کوئی اولاد نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ انھیں باوجود سماج پابندیوں کے بہت سے فلاحی کام سرانجام دینے کا وقت مل جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب وہ اپنے محل میں افغان خواتین کے مختلف وفود سے ملاقاتیں نہیں کرتی ہوں جس میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ناخواندہ خواتین سے لے کر پڑھی لکھی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||