’قبائلی علاقوں میں جاری عدم تحفظ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے ادارے’ہیومن رائٹس واچ‘ نے نیویارک سے پاکستان کے بارے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو قبائلی علاقوں میں شہریوں کو طالبان اور دوسرے گروہوں کے حملوں سے بچانے کے انتظامات کرنے چاہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے لیے جنوبی ایشیا میں تحقیقی کام کرنے والے علی دیان حسن کا کہنا ہے کہ ’جب سے پاکستان فوج نے قبائلی علاقوں سے واپسی اختیار کی ہے شہریوں پر طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت تشدد کے بارے میں اس طرح چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتی۔ انہوں سے اس سلسلے میں محکمۂ صحت کے ایک اعلیٰ اہلکار کی ہلاکت اور ایک اور شہری کی سر قلمی کے واقعات کا حوالے دیا ہے اور یہ دونوں واقعات حال ہی پیش آ چکے ہیں۔ جس شہری کا سر قلم کیا گیا وہ افغان پناہ گزین تھا اور طالبان کے مبینہ حامیوں کو اس پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کا شک تھا۔ ایان کا کہنا ہے کہ اس سے قبائلی علاقوں میں حقوق انسانی کے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ستمبر 2006 میں پاکستانی حکومت نے پاکستانی وفاق کے زیرِانتظام آنے والے علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا اور وزیرستان کے سرحدی علاقے میں اختیارات ان مقامی قبائلی سرداروں کو منتقل کر دیے تھے جو طالبان کے قریبی اتحادی ہیں۔ اس کے بدلے میں قبائلی سرداروں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کی کارروائیاں بند کرا دیں گے۔ شروع میں امریکہ نے اس مفاہمت کی حمایت کی لیکن اب اسے ایک ناکام کوشش قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے بعد سے علاقے میں شدت پسندانہ سرگرمیاں بڑھی ہیں اور سرحد پار کیے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستانی فوج نے 2004 کے بعد امریکی دباؤ کے نتیجے میں قبائلی پٹی میں القاعدہ کے مشتبہ تربیتی کیمپوں اور طالبان گروہوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ دیان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی حکومت قبائلی علاقوں کے انتظام اور لوگوں کے تحفظ کے ذمہ داری اس طرح انکار نہیں کر سکتی کیونکہ قبائلی شہری بڑھتے ہوئے تشدد اور حقوق انسانی کے خلاف ورزیوں کے نتیجے میں یرغمال بن کر رہ گئے ہیں اور حکومت کے پاس اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے‘۔ محکمۂ صحت کے ایک سینئر اہلکار ڈاکٹر عبدالغنی خان کو 16 فروری کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ قبائلی سرداروں سے ایک ملاقات کے بعد واپس آ رہے تھے۔ اس ملاقات کا مقصد قبائلی سرداروں کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مخالفت ترک کردیں۔ قبائلی علاقوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بچوں کو پولیوں کے قطروں کے ذریعے تولیدی صلاحیت سے محروم کرنے کی دوا دی جا رہی ہے اور اس امریکی سازش کا مقصد یہ کہ قبائلی علاقوں میں آبادی میں اضافے کی شرح کم ہو جائے۔ ڈاکٹر غنی نے قبائلی سرداروں کو یہ سمجھانے کے لیے ملاقات کی تھی کہ یہ تصور محض ایک غلط فہمی ہے لیکن جب وہ اس ملاقات کے بعد لوٹ رہے تھے تو انہیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیے جانے والے بم کے ایک دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد 20 فروری کو افغان سرحد سے ملحق شمالی وزیرستان کے ایک گاؤں سیدگی کے قریب ایک سربریدہ لاش ملی، جس پر لگے ہوئے ایک کاغذ کے ذریعے دیے گئے پیغام میں اسے امریکی جاسوس قرار دیا گیا تھا۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ لاش ایک افغان پناہ گزین کی ہے جو افغانستان صوبہ خوست کے ایک علاقے زوزک کا رہائشی تھا۔ نیک عمل کو جس طرح ہلاک کیا گیا ہے اور جس طرح اس کی لاش ملی ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس ہلاکت کے ذمہ دار طالبان کے حامی ہو سکتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں طالبان سے کی جانے والی مفاہمت کے ذریعے قبائلی علاقوں کے شہریوں کی سلامتی پر سودے بازی کی گئی ہے کیونکہ ستمبر میں ہونے والی اس مفاہمت کے بعد سے مسلسل ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ طالبان کے حامی انتقامی کارروائیاں، ’اخلاقی داداگیری‘، قتل اور لوگوں کے سرقلم کرنے کی وارداتیں اور متشدد حملے شروع کر دیے ہیں جو اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ قبائلی علاقوں کے بڑے حصے پر طالبان کو مؤثر اختیار حاصل ہے۔
اس مفاہمت کے فوراً بعد یہ اطلاعات ملیں کہ طالبان کے حامیوں نے تین ایسے سرداروں کو قتل کر دیا گیا ہے جن پر امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔ اس کے علاوہ طالبان کے حامیوں نے فوجی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ علاقے میں داڑھی بنانے پر پابندی لگا دی۔ اپنے طور پر ٹیکس لگانے اور وصول کرنے شروع کر دیے۔ دیان حسن کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کارروائیوں کے ذمہ داروں کو گرفتار کرے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے لیکن حکومت ایسا نہیں کرے گی کیونکہ اس نے طالبان اور ان کے حامیوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور وہ حقوقِ انسانی کی من مانی خلاف ورزیاں کرتے پھر رہے ہیں‘۔ رپورٹ میں طالبان اور ان کے حامیوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں لوگوں کے بنیادی حقوق کا احترام کریں۔ شہریوں اور عورتوں کو مارنے اور ان پر حملے کرنے سے گریز کریں اور صحت اور تعلیم کے لیے کام کرنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک16 February, 2007 | پاکستان باجوڑ میں شیو بنوانے والے مایوس14 February, 2007 | پاکستان باجوڑ: داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار11 February, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان: اب طالبان کے ٹیکس24 October, 2006 | آس پاس ’وزیرستان معاہدے پر تحفظات ہیں‘06 October, 2006 | آس پاس ’القاعدہ کا مرکز وزیرستان تھا‘02 October, 2006 | آس پاس باجوڑ پر سال میں دوسری بمباری31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||