’القاعدہ کا مرکز وزیرستان تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ عراق میں القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد ملنے والے ایک خط سے پتہ چلا ہے کہ القاعدہ کی قیادت کا مرکز پاکستان کے علاقے وزیرستان میں تھا۔ یہ خط عراق میں القاعدہ کے رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد ملا تھا۔ امریکہ کی اطلاعات کے مطابق عراق میں چھ ماہ قبل ملنے والے اس خط میں عسکریت پسندوں کے بارے میں اہم اطلاعات ملی ہیں۔ بظاہر مذکورہ خط میں اسامہ بن لادن کے ایک قریبی ساتھی عطیہ نے ابو الزرقاوی کو متنبہ کیا تھا کہ اگر انہوں عراق میں سنی رہنماؤں اور دوسرے جنگجو گروہوں کو اپنے سے دور کرنا بند نہ کیا تو انہیں القاعدہ کے عہدے سےہٹایا جا سکتا۔ خط کے مطابق القاعدہ کی قیادت پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں روپوش ہے۔ یہ خط الزرقاوی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد ملنے والی ’دستاویزات‘ کے خزانے کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کافی عرصے سے شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کہیں روپوش ہیں۔ عربی میں تحریر اس خط کا پندرہ صفحات پر مشتمل انگریزی ترجمہ گزشتہ ہفتے امریکہ میں انسدادِ دہشتگردی کے فوجی سنٹر نے جاری کیا ہے۔ خط تحریر کرنے والے نے لکھا ہے کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقے میں ہیں جہاں القاعدہ کا ہیڈکوارٹر ہے اور وہاں اس تنظیم کے اور طالبان کے کارکنان سرگرم ہیں۔ اس خط میں ان مشکلات کا بھی ذکر ہے جو وزیرستان سے عراق براہِ راست رابطے کے سلسلے میں پیش آ رہی تھیں۔ خط میں یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ الزرقاوی کے لیئےاپنا نمائندہ پاکستان روانہ کرنا، کسی شخص کو پاکستان سے عراق بھیجنے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ | اسی بارے میں ’عراق میں القاعدہ خاتمے کی جانب‘15 June, 2006 | آس پاس 4000 غیرملکی ہلاک: القاعدہ29 September, 2006 | آس پاس ’القاعدہ نائب سربراہ گرفتار‘03 September, 2006 | آس پاس الجزیرہ پر اسامہ بن لادن کا نیا وڈیو 07 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||