باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستا ن کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک بم حملے میں ایک حکومتی ڈاکٹر ہلاک اور تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ باجوڑ کے پولٹیکل ایجنٹ شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کی شام ساڑھے تین بجے مرکزی شہر خار سے تقریباً تیس کلومیٹر شمال کی جانب تحصیل سالار زئی میں ملا سید بانڈہ میں پیش آیا ہے۔ شکیل قادر کے بقول واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایجنسی کے ڈاکٹر عبدالغنی تین دوسرے اہلکا روں سمیت بچوں کو پولیو کے قطرے پلا نے کے بعد مر کزی شہر خار سے واپس آرہے تھے کہ سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم کا ایک دھماکہ ہوا۔ ڈاکٹر عبدالغنی موقع پر ہلاک جبکہ دیگر تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ سول ہسپتال باجوڑ کے ایم ایس ڈاکٹر امیر خان نے بتایا کہ زخمیوں میں سراج الدین کی حالت نازک ہے جبکہ عبدالرحیم اورحضرت جمال کوبھی سخت چوٹیں آئی ہیں۔ پولٹیکل ایجنٹ کا کہنا ہے کہ پولیو کی یہ ٹیم تحصیل سالارزئی کے تین گاؤں میں ان مقامی لوگوں کو قائل کرنے گئے تھے جنہوں نے اپنے بچوں کو پو لیو کی ویکسین کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی لوگوں کو قائل کرنے کے بعد انہوں نےشیخان بانڈہ اور ملا سید گاؤں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جبکہ خان خیل گاؤں کے لوگ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین دینے پر راضی نہیں ہو سکے۔ شکیل قادر کا کہنا ہے کہ دھماکہ کی وجہ مقامی لوگوں میں اپنے بچوں کو پولیو
واضح رہے باجوڑ ان علاقوں میں سے ہے جہاں عالمی ادارہ صحت کے مطابق لوگوں نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے اس لیے انکار کیا ہے کہ یہ ایک غیر شرعی عمل ہے جو مسلمانوں کے مخالفین کی ایک سازش ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ: داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار11 February, 2007 | پاکستان باجوڑ پوسٹ پر حملہ، سپاہی زخمی 26 January, 2007 | پاکستان ’باجوڑ میں مرنے والے دہشتگرد تھے‘28 November, 2006 | پاکستان باجوڑ میں ہلاک ہونے والے کے نام 09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||